YaadeiNیادیں
اُن لَبوں کی یاد آئی گُل کے مُسکرانے سے
زَخمِ دِل اُبھر آےٓ پھر بہار آنے سے
جانے تھی گریز اُن کو،یا کہ شرم،محفل میں
رات مُجھ سے کتراےٓ وہ نظر ملانے سے
راز جو چھپاےٓ تھے،آج سَب پہ ظاہر ہیں
کُچھ مری کہانی سے،کچھ ترے فسانے سے
حال جو ہمارا ہے،سب تو اُن پہ روشن ہے
پھر بتاوٓ کیا ہوگا،حالِ دِل سنانے سے
اُن کو ہم سے کیا مطلب،ہم کو کیا غرض فیاضؔ
ترکِ عِشق کر بیٹھے ہم تو اِک زمانے سے…!
✍…فیاضؔ احمد
