YaadeiNیادیں آج گم سم ہے جو برباد جزیروں جیسی اس…


YaadeiNیادیں
آج گم سم ہے جو برباد جزیروں جیسی
اسکی آنکھوں میں چمک تھی کبھی ہیروں جیسی

کتنے مغرور پہاڑوں کے بدن چاک ہوئے
تیز کرنوں کی جو بارش ہوئی تیروں جیسی

جس کی یادوں سے خیالوں کے خزانے دیکھے
اسکی صورت بھی لگی آج فقیروں جیسی

چاہتیں لب پہ مچلتی ہوئی لڑکی کی طرح
حسرتیں آنکھ میں زندان کے اسیروں جیسی

ہم انا مست تہی دست بہت ہیں محسن
یہ الگ بات کے عادت ہے امیروں جیسی…!

✍…محسن نقوی(شاعر درد)