Rhetorical Question / Interrogation بَسا اَوقات ب…
Rhetorical Question / Interrogation
بَسا اَوقات بات میں زور پَیدا کرنے کے لِئے سَوالِیہ اَنداز اِختیار کِیا جاتا ہَے ۔ اَب یہ عام سَوال / اِستَفہام سے مُختَلِف ایک اَدَبی تَرکیب ہَے ، اَور اِس میں کِسی سَوال کا جَواب ہَرگِز دَرکار نَہیں ہوتا ۔ ذَیل میں دی گَئی اُردُو اَمثال پَر غَور فَرمائیں : –
1 – ہَم کوئی بے وَقُوف ہیں کیا ؟
( مُراد یہ کہ ہَم خُوب سَمَجھنے ہیں )
2 – ہَم نے کیا چُوڑِیاں پہن رَکّھی ہیں ؟
( مُراد یہ کہ ہَمیں کمزور نہ سَمجھا جائے / ہَم خُوب نِمَٹنا جانتے ہیں )
3 – اَسّی اَیتھے اَمب لَین آئے آں ؟
( ہَماری آمَد کی اَہمِیَت کو سَمجھا جائے )
4 – بیٹا تُم اَیسے ہی بَڑے ہو گَئے ہو ؟
( ہَم والِدَین نے بُہُت جَتَن سے تُمہاری پَروَرِش کی ہَے )
5 – اَیسا کَہاں سے لاؤُں کہ تُجھ سا کَہیں جِسے ؟ ( غالِب )
( تُجھ سا کوئی نَہیں )
6 – غالِبِ خَستہ کے بَغَیر ، کون سے کام بَند ہیں ؟
( غالِب بے چارے کی اِس دُنیا میں کوئی اَہمِیَت نَہیں )
اَب کُچھ مِثالیں زَبانِ فَرَنگِیہ سے ہو جائیں : –
1 – Am I my brother’s keeper ?
2 – Do men gather grapes of thorns , or figs of thistles ?
3 – Who is here so vile that will not love his country ?
مَضامینِ شِبلی
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2094412487455940