Khalil Jibran An exract from "Broken Wings" by Khalil Jibran
خلیل جبران کی تصنیف "شکستہ پر"(Broken Wings) سے ایک اقتباس اور اس کا ترجمہ کوثر مظہری کے قلم سے – یہ اقتباس اور ترجمہ ڈاکٹر انوارالحق کے انگریزی ناول (The Long Wait) کے اردو ترجمے "شبِ انتظار گزری ہے" سے اخذ کیا گیا ہے- اس ناول کے مترجم ہیں وسیم احمد علمی –
The mountains, trees and rivers change their appearance with the vicissitudes of time and seasons, as a man changes with his experiences and emotions. The lofty poplar that resembles a bride in the daytime, will look like a column of smoke in the evening; the huge rock that stands impregnable at noon, will appear to be a miserable pauper at night, with earth for his bed and the sky for his cover ; and the rivulet that we see glittering in the morning and hear singing the hymn of eternity, will, in the evening turn to a stream of tears wailing like a mother bereft of her children.
Khalil Jibran
(Broken Wings)
ترجمه : کوثر مظہری :—
پہاڑ، دریا، درخت سب کے سب وقت اور موسم کے نشب و فراز کے ہمراہ اپنے کو بدل دیتے ہیں جس طرح انسان اپنے تجربات اور احساسات و جذبات کے ساتھ بدل جاتا ہے، بلند و پُر وقار درخت حور جو دن میں ایک دلہن سے مشابہت رکھتا ہے بوقت شام دھویں کے ایک ستون کی رح دکھائی دیتا ہے، بلند چٹان جو بوقت نصف النہار ناقابلِ تسخیر حالات میں ایستادہ ہوتی ہے راتوں میں قابلِ رحم مفلس کی کی طرح دیکھائی دیتی ہے جس کو بچھونا اور آسمان جس کا سائبان- دریا جسے صبح کو درخشاں اور نغمہْ ابدیت الاپتے ہوئے دیکتے ہیں بوقتِ شام اپنے بچے سے محروم کی گئی اور آہ و بُکا کرتی ایک ماں کی طرح آنسوؤں کے جھرنے میں تبدیل ہو جاتی ہے –
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2858881414342373

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔