#hamidnaved ” بابا جی ! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ن…
” بابا جی ! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟
میں نے با با جی کی دوکان پہ لٹکے ہوۓ بورڈ کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا جس پہ تحریر تھا؛
"رمضان میں غریبوں مساکین کے لئے سموسہ دس کے بجائے پانچ روپیہ, اور پکوڑے آدھی قیمت پر”۔
میرا سوال بےمعنی نہیں تھا – کیونکہ یہی چھوٹا سا کاروبار انکی زندگی کا اثاثہ ہے-
بابا جی مسکرایے اور بولے؛
"ہاں ٹھیک ہوں بیٹا – میں نے سوچا کہ کاروبار میں اضافہ کروں”۔
میں نے پھر نظریں گھما کر پوسٹر کی طرف سوالیہ انداز سے دیکھا اور سوچنے لگا۔
یہ ایک نئی روایت ہے، بھلے ہی بابا جی کی سوچ مثبت ہو مگر وہ ایک غریب محنتی شخص ہیں اور نقصان کر کے کیسے زندہ رہیں گے-
میں اپنی جگہ پریشان تھا مگر بابا جی کے چہرے پہ عجیب چمک تھی –
” میں ایک بڑا کاروبار شروع رہا ہوں , تجارت کروں گا رمضان میں , انشاء الله – خوب کماؤں گا – سارے سال کی کمائی ایک ایک دن میں کروں گا”
میں مبہوت کھڑا سنے جا رہا تھا-
کچھ کہے بغیر انکے چہرے کی بشاشت کو دیکھ رہا تھا-
ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ زمین کھود رہے ہوں اس امید پہ کہ خزانہ انکے ہاتھ لگنے والا ہے –
” بیٹا ! الله سے تجارت شروع کر رہا ہوں – بس اب برکت ہی برکت ہو گی – دیکھنا میں ہر روز اتنا کماؤں گا کہ میری جھولی میں نہیں سماےَ گا – تم دیکھنا – لوگوں کو لگے گا کہ میں نے قیمت کم کر دی لیکن نادان ہیں یہ دنیا دار – سمجھ نہیں لوگوں کو – میں نے کئی گنا قیمت بڑھا دی ہے”
بابا جی سمجھ رہے تھے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں , اور خود بخود جواب دیے جا رہے تھے۔
” یہ برکتوں کا مہینہ ہے , ہم دنیا کمانے نکل پڑتے ہیں – اصل کمائی کی فکر نہیں کرتے اور برکتوں کو چھوڑ کر مردار کے پیچھے بھاگتے ہیں – یہ دنیا کا مال مردار ہے – اگر یہ تجارت سمجھ میں آ گئی تو ہر دکان پہ ایسے کاغذ لٹکیں گے”
میں نے ایک لمبی سانس لی تو بابا جی نے قہقہ لگایا –
"یہ جو میں کہہ رہا ہوں , بڑی ریاضت کے بعد سمجھ آیا ہے مجھے – تمہیں ابھی سمجھ نہیں آئیگا”۔
سمجھ تو میں بھی چکا تھا مگر دنیا کے طریقے بھی نہیں بھلا پا رہا تھا –
” الله آپ کی تجارت قبول فرماے ” میں نے کہا تو بابا جی نے زور سے آمین کہا اور اپنے کام میں لگ گئے-
کاش کہ یہی بات ہر دکاندار سمجھ جایَے اور دنیا کو سنوارنے کی بجایَے آخرت کی فکر میں لگے۔
آمین