اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#hamidnaved میرے والد صاحب نے ایک قصّہ سنایا، کہ…


#hamidnaved

میرے والد صاحب نے ایک قصّہ سنایا، کہتے ہیں

ہمارے گاؤں میں ایک نائی تھا- اُس کا کُل سرمایا ایک تکیہ، ایک چادر، اور اپنے اوزاروں کا تھیلا تھا! اُس کا کوئی گھر نہیں تھا- بھلے وقتوں میں لوگ اکثر اپنے گھر کے باھر ایک چارپائی اور پانی کا گھڑا رکھا کرتے تھے- وہ نائی بھی کسی کے گھر کے باھر چارپائی پر سو جایا کرتا تھا!

ایک بار گاؤں میں سیلاب آ گیا!
سب لوگ اپنے اپنے مال اسباب کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے تھے!
نائی نے اپنا تکیہ چادر اٹھایا، ایک دیوار پر چڑھ کر تکیے کو ٹیک بنایا، اور لیٹ گیا!

ایک شخص اس نائی کے پاس سے گزرا اور اسے پُر سکون دیکھ کر کہنے لگا:

لوکاں نو بھاجڑ پئی اے تے تو آرام نال لما پیا ایں؟
*(لوگ پریشان حال بھاگ رہے ہیں اور تم سکون سے لیٹے ہوۓ ہو؟)*

نائی نے جواب دیا؛

اج ای تے غربت دی چس آئی اے!
(آج ہی تو غربت کا مزا آیا ہے!)*
یعنی میرے پاس کون سا کوئی مال اسباب تھا، جسے بچانے کیلئے میں بھاگا پھرتا!
میں تو آج اپنی غریبی کا مزا لے رہا ہوں!

آج کے غریبوں کا حال بروز محشر اُس نائی جیسا ہی ہو گا!
اور آج کے مالداروں کا حال ان لوگوں کی طرح ہو گا جو بُرے حال بھاگ رہے تھے!

جھوٹ، مکر، فریب، خیانت اور ظلم سے دولت اکٹھی کرنے والے، جتنا دل چاہے اکٹھا کر لیں! یہ بات سورج کی طرح روشن ہے کہ اللہ تعالی کو حساب تو دینا ہی ۔۔