#hamidnaved آج وہ اسکول سے گھر آئی تو اپنے ساتھ…


#hamidnaved

آج وہ اسکول سے گھر آئی تو اپنے ساتھ کچھ کاغذات لائی جو کہ در اصل مضامین تھے یہ بچوں کا ہوم ورک تھا کہ بچے "میری خواہش”اس عنوان کے تحت ایک مضمون لکھ کر لائیں. آج اسے ان مضامین کو جانچنا تھا.
عشائیہ کے بعد اس نےجانچنا شروع کیا اس کے شوہر قریب ہی اپنے اسمارٹ فون پر اپنا پسندیدہ کھیل "کینڈی کرش ساگا” کھیلتے ہوئے ٹہل رہے تھے.
آخری پرچہ پڑھتے ہی اس نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا اس کی سسکیوں کو سن کر اس کے شوہر دوڑتے ہوئے آئے اور اس سے رونے کی وجہ دریافت کی”کیا ہوگیا ہے کیوں رو رہی ہو.”
اس نے جواب دیا.”کل میں نے بچوں کو "میری خواہش”اس عنوان پر مضمون لکھنے کا ہوم ورک دیا تھا وہی جانچ رہی تھی اس آخری مضمون نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں بے تحاشا رونے لگی.”
اس کا شوہر متجسس ہو گیا اس نے پوچھا..”کیا مضمون ہے ذرا میں بھی تو سنوں”
اس استانی نے کہا "سنئے.”
"میری خواہش ہے کہ میں ایک اسمارٹ فون بن جاؤں .میرے والدین اسمارٹ فون کو بہت چاہتے ہیں وہ اس کا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ مجھے بھی بھول جاتے ہیں جب میرے والد آفس سے تھکے ماندے گھر آتے ہیں تو ان کے پاس اسمارٹ فون کے لئے تووقت ہوتا ہے لیکن میرے لئے نہیں. جب میرے والدین کام کرتےہیں اور فون کی گھنٹی بجتی ہےتو وہ فوراً فون اٹھا لیتے ہیں جبکہ میں کتنا ہی روؤں میری طرف دیکھتے بھی نہیں.وہ اپنے اسمارٹ فون پر کھیل کھیلتے ہیں میرے ساتھ کوئی بھی نہیں کھیلتا جب وہ فون پر کسی سے بات کرتے ہیں تو میری کوئی بات نہیں سنتے چاہے میں کتنی ہی اہم بات کہوں.
اسلئے میری خواہش ہےکہ میں ایک اسمارٹ فون بنوں.”
یہ سنتے ہی شوہر بھی جذباتی ہو گیا اور اس نےبھرائ ہوئی آواز میں پوچھا”یہ مضمون کس بچے نے لکھا ہے…؟ ”
استانی…”ہمارے بیٹے نے…!”
آلات مفید ہوتے ہیں وہ ہمارے کام آسان کرنے کے لئے ہوتے ہیں نہ کہ ہمیں اپنے پیاروں سے دور کرنے کے لئے ہوتے ہیں.
ہے دل کے لئےموت مشینوں کی حکومت احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات بچے اپنے معاشرہ میں جیتے ہیں اس کی ہر چیز کو دیکھتے سنتے اور سمجھتے ہیں اس کے اثرات قبول کرتے ہیں ہمارے افعال ان کے نازک ذہنوں پر انمٹ نقوش مرتب کرتے ہیں اس لئے ہمیں انتہائی توجہ دینا چاہئے کہ ہمارے کسی عمل سے بچوں کے ذہن کوئی منفی تاثر قبول نہ کرلیں…