Category: منتخب غزلیں
-
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا کسی کو…
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا مولانا ظفر علی خاں
-

لوح و قلم …..فیض احمد فیض ہم پرورشِ لوح و قلم ک…
لوح و قلم …..فیض احمد فیض ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسبابِ غمِ عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانئ دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخئ ایام ابھی اور بڑھے گی ہاں اہلِ ستم، مشقِ ستم کرتے رہیں گے منظور یہ تلخی،…
-

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہات نہ…
کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں، کب ہاتھ میں تیرا ہات نہیں صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو! کوچۂ جاناں میںکیا ایسے بھی حالات نہیں؟ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی…
-

قرآن سے میرا تعلق: جناب احمد ندیم قاسمی میں نے تع…
قرآن سے میرا تعلق: جناب احمد ندیم قاسمی میں نے تعلیم کا آغاز ہی قرآن مجید سے کیا۔ چار برس کی عمر تھی جب گاؤں کی مسجد میں درس لینا شروع کیا۔ ابتدائی پانچ پارے پڑھے تھے کہ یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔ پرائمری تعلیم کے بعد جب مڈل میں داخلے کے لئے اپنے سر…
-

احمد ندیم قاسمی کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں…
احمد ندیم قاسمی کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا گھر میں گِھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے صرف اک شخص کو…
-

نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن ۔۔ فیض احمد فیض نثار…
نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن ۔۔ فیض احمد فیض نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ…
-

زِندگی کے جِتنے دروازے ہیں مُجھ پہ بند ہیں دیکھنا…
زِندگی کے جِتنے دروازے ہیں مُجھ پہ بند ہیں دیکھنا حدّ ِ نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جُرم ہے سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نِکل کر سوچنا بھی جُرم ہے آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جُرم ہے کیوں بھی کہنا جُرم ہے کیسے بھی کہنا جُرم ہے…
-

چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں تُہمتِ عِشق پوشیدہ ک…
چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں تُہمتِ عِشق پوشیدہ کافی نہیں آج بازار میں پابَجَولاں چلو دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو خاکِ برسر چلو خُوں بہ داماں چلو راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو حاکمِ شہر بھی مجمعِ عام بھی صُبح ناشاد بھی روزِ ناکام بھی تیرِ اِلزام بھی سنگِ دُشنام بھی…
-

تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں احمد ندیم…
تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں احمد ندیم قاسمی تجھے کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں حسن یزداں سے تجھے حسن بتاں تک دیکھوں تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں صرف اس شوق سے پوچھی…
-

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے فیض احمد فیض …
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے فیض احمد فیض بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے درد شب ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے خون دل وحشی کا صلا کیوں نہیں دیتے مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے منصف ہو تو اب…