اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

زِندگی کے جِتنے دروازے ہیں مُجھ پہ بند ہیں دیکھنا…



زِندگی کے جِتنے دروازے ہیں مُجھ پہ بند ہیں
دیکھنا حدّ ِ نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جُرم ہے
سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نِکل کر سوچنا بھی جُرم ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جُرم ہے
کیوں بھی کہنا جُرم ہے کیسے بھی کہنا جُرم ہے
سانس لینے کی تو آزادی مُیسّر ہے مگر
زِندہ رہنے کے لیے اِنسان کو کُچھ اور بھی درکار ہے
اور اِس کُچھ اور بھی کا تذکِرہ بھی جُرم ہے
اے خداوندانِ ایوانِ عقائد
اے ہُنر مندانِ آئین و سیاست
زِندگی کے نام پر بس اِک عِنایت چاہیئے
مُجھ کو اِن سارے جرائم کی اِجازت چاہیئے۔۔۔!

۔۔۔۔۔

درگُزر کرنے کی عادت سیکھو
اے فرِشتو بشریت سیکھو

ربِ واحِد کے پُجاری ہو اگر
تُم جو کثرت میں ہو وحدت سیکھو

دشت جو ابر کے محتاج نہیں
اُن سے پیرائے غیرت سیکھو

ریزہ ریرزہ ھی اگر رہنا ہے
اپنے صحراؤں سے وُسعت سیکھو

صِرف حیرت ہی نہیں آئینوں میں
اُن سے اظہارِ حقیقت سیکھو

ایک آنسو بھی نہ روکو دِل میں
اور خوش رہنے کی عادت سیکھو

سامنے آنے سے کیوں ڈرتے ہو
عِشق کرنا ہے تو شِدّت سیکھو

مُجھ کو کیا عِلم ریا کے فن کا
مُجھ سے سیکھو تو محبّت سیکھو

درد ھی درد مگر حُسن ہی حُسن
دوستو شعر کی سیرت سیکھو۔۔۔!

۔۔۔۔۔

خُدا کرے میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گُل جِسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پُھول کِھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گُزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جِس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھّروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خُدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حُسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملُول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خُدا کرے کہ میرے اِک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جُرم نہ ہو زِندگی وبال نہ ہو۔۔۔!

احمد ندیمؔ قاسمی