پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا کسی کو…
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا
سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
مولانا ظفر علی خاں
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دورِ جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا
سراپا معصیت میں ہوں، سراپا مغفرت وہ ہے
خطا کوشی روش میری، خطا پوشی ہے کام اس کا
مولانا ظفر علی خاں