Category: منتخب غزلیں
-

شاعر نہ ہوئے ہوتے اُسے بھول بھی جاتے دن رات چلا لی…
شاعر نہ ہوئے ہوتے اُسے بھول بھی جاتے دن رات چلا لیتے خرابات کی چکی ویسے تو اپنے آپ میں رہتے ہیں ہم مگن طوفان کوئی آیا تو عزت ضرور کی کون ہوں میں اس کو پتا ہی نہیں اس نے مجھ کو کبھی چھواہی نہیں حضرتِ خضرمرے آخری بچپن کے دوست میں کہیں اور…
-

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد شہرت بخاری ہم…
ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد شہرت بخاری ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد لوگوں نے کیا چاند کے صحراؤں کو آباد ہر سمت فلک بوس پہاڑوں کی قطاریں خسروؔ ہے نہ شیریںؔ ہے نہ تیشہ ہے نہ فرہاد برسوں سے یہی خواب ہیں نیندوں کی سجاوٹ گلشن ہے…
-

کھل کے گل بن گئی کلی چپ چاپ اک قیامت گزر گئی چپ چا…
کھل کے گل بن گئی کلی چپ چاپ اک قیامت گزر گئی چپ چاپ ہم نے گردوں پہ خون دیکھا ہے لوگ کہتے ہیں پو پھٹی چپ چاپ سوچ کے آسماں سے اتری ہے دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ پی کے زہراب خامشی کے ساتھ ہم لٹاتے رہے خوشی چپ چاپ دل کی…
-
"ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو رہتا ہے مگر ای…
"ہر چند سہارا ہے تیرے پیار کا دل کو رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو” جناب شہرتؔ بخاری (ولادت: 2 دسمبر 1925ء – وفات: 11 اکتوبر 2001ء)
-

یہ دسمبر ہے سنو ! میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے وہاں …
یہ دسمبر ہے سنو ! میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے وہاں سردی بہت ہوگی اکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گے تو گھر میں کوئ بھی لڑکی سلگتی مسکراہٹ سے تمھاری اس تھکاوٹ کو تمھارے کوٹ پر ٹھہری ہوئ بارش کی بوندوں کو سمیٹے گی ،نہ جھاڑے گی نہ تم سے…
-

"دسمبر مجھے راس نہیں آتا” کئی سال گزرے کئی سال ب…
"دسمبر مجھے راس نہیں آتا” کئی سال گزرے کئی سال بیتے شب و روز کی گردشوں کا تسلسل دل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے چٹختے ہوئے خواب آنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیں مگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو بے کراں چاہتوں سے…
-

ابھی سردی نہیں آئی !! ابھی موسم نہیں بھیگا !! ابھی…
ابھی سردی نہیں آئی !! ابھی موسم نہیں بھیگا !! ابھی ماحول بھی دھند میں نہیں ڈوبا ابھی ناران کی بل کھاتی سڑکو ں پر ہے سناٹا !! ابھی تو برف کی ڈولی فضاؤں میں معلق ہے ابھی تو یہ نومبر ہے نومبر میں تو شاعر اپنی چُھریاں تیز کرتے ہیں نومبر جانے والا ہے…
-

چَمکا ہے کیوں نُور اس قدر روشن ہیں جِس سے بام و دَ…
چَمکا ہے کیوں نُور اس قدر روشن ہیں جِس سے بام و دَر جِس پر فِدا نُورِ سَحر جِس سے خَجِل شَمس و قَمر ہے کِس کی آمد کا اَثر ہوتا ہے کون اب جلوہ گَر ہَر گَھر تَجلّی کا ہے گھر ہَر جا ہے مُوسٰی کی نَظر ہَر نَخل قَدِ حُور ہے ہَر شاخ…
-
بنتے رہے ہیں دل میں عجب گردباد سے رنگوں کو آزما …
بنتے رہے ہیں دل میں عجب گردباد سے رنگوں کو آزما نہ سکے اعتماد سے یہ اور بات آبلے ہونٹوں پہ پڑ گئے دہلیز چوم لی ہے مگر اعتقاد سے برسوں کی بے زبان تھکاوٹ لپٹ گئی جب شہرِ دل میں لوٹ کے آئے جہاد سے سرسوں کی چاندنی سے برہنہ درخت تک ہر شے…
-

کلام ۔ شیخ ابراہیم ذوق کتاب ۔ کلیاتِ ذوق ردیف ۔ یا…
کلام ۔ شیخ ابراہیم ذوق کتاب ۔ کلیاتِ ذوق ردیف ۔ یائے تحتائی صفحہ ۔ ۱۸۱ مزا تھا ہم کو جو بلبل سے دوبدو کرتے کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب…