شاعر نہ ہوئے ہوتے اُسے بھول بھی جاتے
دن رات چلا لیتے خرابات کی چکی
ویسے تو اپنے آپ میں رہتے ہیں ہم مگن
طوفان کوئی آیا تو عزت ضرور کی
کون ہوں میں اس کو پتا ہی نہیں
اس نے مجھ کو کبھی چھواہی نہیں
حضرتِ خضرمرے آخری بچپن کے دوست
میں کہیں اور سے ہوتا ہوا گھرجاؤں گا
پیار خوابوں سے حقیقت سے کنارہ کرنا
میری آنکھوں کو عادت ہے خسارہ کرنا
وہ یہ کہتے ہیں صدا ہو تمہاری جیسی
اس کا مطلب تو یہی ہے کہ پکارے جاؤ
میں اپنے محسنوں کو کبھی بھولتا نہیں
تم تو میرے قریب ہو اور مہرباں بھی ہو
عشق ہوا پر کھونا پانا نہیں ہوا
حائل اپنے بیچ زمانہ نہیں ہوا
اللہ رکھے یاروں کی آنکھوں میں چمک
اب تک کوئی خواب پرانا نہیں ہوا
رؤف رضا

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔