Category: منتخب غزلیں
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تیرے غم ۔۔۔ تیری آرزو کے س…
( غیــر مطبــوعــہ ) تیرے غم ۔۔۔ تیری آرزو کے ساتھ دفن َ مَیںَ ہو چکا ہے َ تو ” کے ساتھ دل میں سوراخ ہوگئے اتنے حسرتیں بہہ گئیں لہو کے ساتھ جنگ جس کے لئے لڑی میں نے وہ کھڑا ہے ِمرے عدو کے ساتھ وہ مجھے میرے سُر میں گاتا ہے خوش…
-

میرزا یاسؔ، یگانہ، چنگیزی . آنکھ کا مارا مرے نزدی…
میرزا یاسؔ، یگانہ، چنگیزی . آنکھ کا مارا مرے نزدیک آزاری نہیں اور جو سچ پُوچھو تو اچّھی کوئی بیماری نہیں کہہ رہا ہُوں قابِلِ مرہم نہیں زخمِ جگر چارہ سازو! یہ دل آزاری ہے غم خواری نہیں پھینک دو آئینۂ دِل کو، جو گاہک اُٹھ گئے اب کہِیں بازار میں اِس کی خریداری نہیں…
-

تھی سوچ جان لینے کی، لے لیتے شوق سے! تیار ہم نہ کب…
تھی سوچ جان لینے کی، لے لیتے شوق سے! تیار ہم نہ کب تھے، مگر راحتوں کے بعد . شفیق خلشؔ
-

( غیر مطبوعہ ) دیکھے ہُوؤں کا دیکھنا ، دیکھنا اَو…
( غیر مطبوعہ ) دیکھے ہُوؤں کا دیکھنا ، دیکھنا اَور ہو چکا حیرتیں اور ہو چکیں ، آئنہ اور ہو چکا شب کے گزشت و رَفت کی ، دن میں کہیں خبر چلی اور سا تھا جو ماجرا ، ماجرا اور ہو چکا آدمی نے بھی کب سنا ، آدمی کا کہا کہ جب…
-

دَر ‘ دیوار ‘ دریچہ ‘ اُس کا گھر اُس کا ‘ باغیچہ ا…
دَر ‘ دیوار ‘ دریچہ ‘ اُس کا گھر اُس کا ‘ باغیچہ اُس کا ہم تو ہیں ‘ بَس خاک برابر سارا اُوچا نیچا ‘ اُس کا روز ہماری مٹّی اُوپر بِچھتا ہے غالِیچہ ‘ اُس کا دل میں اُس کی شکل اُتاری منظر آنکھ سے مِیچا ‘ اُس کا جو بھی ڈھنگ سے…
-

( غیر مطبوعہ ) کسی کی بزم میں ہم اِس خیال سے بھی …
( غیر مطبوعہ ) کسی کی بزم میں ہم اِس خیال سے بھی گئے کہ وہ نہ سمجھے کہ ہم عرضِ حال سے بھی گئے ہمی تو تھے کبھی مِعیار دوسروں کی لئے ہمی تو ہیں کہ خود اپنی مثال سے بھی گئے سَبُک خرامیٔ اَغیار کی نہ کر تقلید کہ اِس جنوں میں کئی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) ایسے ہجــر مسـلسـل کر دُوں آ…
( غیــر مطبــوعــہ ) ایسے ہجــر مسـلسـل کر دُوں آخِــــر کـو پھـر اوّل کر دُوں تُو جو آنکھ سے اوجھل ہو تو چشم ِ نم سے جَل تھل کر دُوں پَل میں توڑ دُوں ســنّاٹے کو ہنستے لبوں سے ہلچل کر دُوں بَن کے مور تُو پنکھ پسـارے آ ۔۔۔ مَیں خود کو جنگل کر…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) سب توازُن میں ہے اور بھی …
( غیــر مطبــوعــہ ) سب توازُن میں ہے اور بھی اَن گِنت ہیں ، مسائل یہاں بات سیدھی سی ہے باٹ مرضی مطابق ہوں تو سب توازُن میں ہے (تم کبھی) سَر کے بَل ، دیکھنا آسماں سچ میں بادل نکلتے ہیں پَیروں تلے یا کہ اوندھا پڑا ہے جہاں ٹوٹتے ، جُڑتے ، بنتے…
-

( غیر مطبُوعہ ) ہر گِز نہ راہ پائی ‘ فرداودی نے د…
( غیر مطبُوعہ ) ہر گِز نہ راہ پائی ‘ فرداودی نے دِل پر رہتی ہے ایک حالت ‘ بارہ مہِینے ‘ دِل پر سکتے میں ہیں مَہ و مِہر ‘ دریا پڑے ہیں بے بحر ہے سخت غیر موزُوں ‘ دُنیا زمین ِ دِل پر شُعلہ چراغ میں ہے ‘ سودا دماغ میں ہے…
-

شفیق خلشؔ . کہو تو ہم سے کہ آخر ہمارے کون ہو تم دل…
شفیق خلشؔ . کہو تو ہم سے کہ آخر ہمارے کون ہو تم دل و دماغ ہیں تابع تمھارے، کون ہو تم جو آکے بیٹھ گئے ہو مکین و مالک سا دل و جگر میں محبت اُتارے کون ہو تم خیال و خواب میں خوش کن جمالِ خُوب لیے بسے ہو زیست کے بن کر…