دَر ‘ دیوار ‘ دریچہ ‘ اُس کا
گھر اُس کا ‘ باغیچہ اُس کا
ہم تو ہیں ‘ بَس خاک برابر
سارا اُوچا نیچا ‘ اُس کا
روز ہماری مٹّی اُوپر
بِچھتا ہے غالِیچہ ‘ اُس کا
دل میں اُس کی شکل اُتاری
منظر آنکھ سے مِیچا ‘ اُس کا
جو بھی ڈھنگ سے بازی کھیلے
دُنیا ہے بازیچہ ‘ اُس کا
( اکبر معصُوم )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔