Category: منتخب غزلیں
-

خالی بورے میں زخمی بِلّا جان محمّد خان ! سفر آس…
خالی بورے میں زخمی بِلّا جان محمّد خان ! سفر آسان نہیں دھان کے خالی بورے میں جان اُلَجھتی ہے پَٹ سَن کی مضبوط سلاخیں دِل میں گڑی ہیں اور آنکھوں کے زرد کٹوروں میں چاند کے سِکّے چَھن چَھن گِرتے ہیں اور بدن میں رات پھیلتی جاتی ہے ! آج تمہاری ننگی پِیٹھ پہ…
-

( غیــر مطبـــوعــہ ) کسی کے ساتھ رہو’ دل میں ہو…
( غیــر مطبـــوعــہ ) کسی کے ساتھ رہو’ دل میں ہو مکیں کوئی اور عذاب ایسا کسی روح پر نہیں’ کوئی اور مَیں تجھ کو بانہوں میں بھر کر’ تجھی کو ڈھونڈتا ہوں جہاں میں ہے کہیں مجھ ایسا بے یقیں کوئی اور خبر تو تھی’ کوئی مجھ میں مِرے سِوا ہے’ مگر نظر بھی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) حیرتیں منظر میں گم تھیں’ آئ…
( غیــر مطبــوعــہ ) حیرتیں منظر میں گم تھیں’ آئنہ نیزے پَہ تھا دن نکل آیا تھا اور سورج سَوا نیزے پہ تھا چل رہے تھے ماتمی دستے سلگتی رَیت پر دیویوں کے سَر کُھلے تھے’ دیوتا نیزے پہ تھا کیوں سرِ فرشِ دُوعالم شور تھا ‘ بے تھاہ شور کیا خدائی رو رہی تھی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) زرد پیڑوں سے کوئی شاخ ہ…
( غیــر مطبــوعــہ ) زرد پیڑوں سے کوئی شاخ ہری جھانکتی ہے جیسےآنکھوں سے تری بات کوئی جھانکتی ہے خود کو تو نقش نگاری کا خدا کہتا ہے؟ تیری تصویر سے رنگوں کی کمی جھانکتی ہے میرے لہجے میں ترا رنگ عیاں ہوتا ہے جیسے سیلن زدہ کمروں سے نمی جھانکتی ہے ایک وَحشت مِرے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) مست پھرتی ہے ہَـوا گَرد اُڑا…
( غیــر مطبــوعــہ ) مست پھرتی ہے ہَـوا گَرد اُڑانے والی جیسے اب کے کوئی بارش نہیں آنے والی یار ! مشکل تھا کہاں، بازی الٹ سکتی تھی ایک بھی چال چلے ہم نہ زمانے والی یہ بھی کیا ہے کہ سبھی شہر کو جائیں رستے راہ کیوں کوئی نہیں گانو کو جانے والی برق…
-

( غیر مطبوعہ ) ہم ترے راز دار ہیں اب تک اِس لیے ب…
( غیر مطبوعہ ) ہم ترے راز دار ہیں اب تک اِس لیے بر قرار ہیں اب تک رُوح ہِچکولے کھا رہی ہے مگر رشتے ناتے سوار ہیں اب تک چُھوٹ بھی آئے لُوٹنے والے لُٹنے والے فرار ہیں اب تک اک شبِ غم گذار کے دیکھیں جو تہجُّد گذار ہیں اب تک گِھر چکی…
-

شفیق خلشؔ . خاموش و درگزر کی مری عادتوں کے بعد ناد…
شفیق خلشؔ . خاموش و درگزر کی مری عادتوں کے بعد نادم تو وہ ر ہے تھے دِیے تہمتوں کے بعد پہچان کچھ نِکھر سی گئی شدّتوں کے بعد کندن ہُوئے ہیں غم سے جُڑی حدّتوں کے بعد دستک ہُوئی یہ کیسی درِ در گزر پہ آج شعلہ سا ایک لپکا بڑی مُدّتوں کے بعد…
-

( غیــر مطبوعــہ ) راکھ اور خاک سے بھرتا ہُو…
( غیــر مطبوعــہ ) راکھ اور خاک سے بھرتا ہُوا محسوس ہُوا کوئی سینے سے گذرتا ہُوا محسوس ہُوا مدتوں بعد ملا خود سے مَیں اور ملتے ہوئے ہچــکچــاتا ہُوا ‘ ڈرتا ہُوا محسوس ہُوا وہی سَر جو کبھی سینے کو سبـُک کرتا تھا دل پہ اک بَوجھ سا دھرتا ہُوا محسوس ہُوا رات ڈھلتے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) مجبُـــوری میں وہ تیسرا ہوں…
( غیــر مطبــوعــہ ) مجبُـــوری میں وہ تیسرا ہوں جو خود کو گنہ گار محسوس کرنے پَہ مجبور ہوتا ہے ہر واقعے میں ہر اک حادثے کی جگہ پر عجب امتحاں ہے اگر چپ رہوں تو کبوتر کو کھا جائے ِبلّی اڑا دوں تو بلّی مجھے کوستی ہے کہ میں نے اسے آج فاقہ کرایا…
-

مخدومؔ محی الدین "چاند تاروں کا بَن” . موم کی طرح،…
مخدومؔ محی الدین "چاند تاروں کا بَن” . موم کی طرح، جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن رات بھر جھلملاتی رہی شمعِ صبحِ وطن رات بھر جگمگاتا رہا چاند تاروں کا بَن تشنگی تھی، مگر تشنگی میں بھی سرشار تھے پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لیے منتظر مرد و زن مستیاں ختم، مدہوشیاں ختم تھیں،…