Category: منتخب غزلیں
-

-

-

-

-
عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے بیتاب عظیم آبا…
عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے بیتاب عظیم آبادی عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے کچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچے عشق کے شعلے بھڑک کر رگ جاں تک پہنچے آگ سی آگ ہے یہ آگ جہاں تک پہنچے لڑ گئی ان سے نظر کھچ گئے ابرو ان…
-
تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر اگر وفا کا…
تو اپنے پھول سے ہونٹوں کو رائیگاں مت کر اگر وفا کا ارادہ نہیں تو ” ہاں ” مت کر تو میری شام کی پلکوں سے روشنی مت چھین جہاں چراغ جلائے وہاں دھواں مت کر پھر اس کے بعد تو آنکھوں کو سنگ ہونا ہے ملی ہے فرصتِ گریہ تو رائیگاں مت کر چھلک…
-
لیا قت علی عا صم فر ا ق نے تجھے پو جا نہیں کہ و ق…
لیا قت علی عا صم فر ا ق نے تجھے پو جا نہیں کہ و قت نہ تھا یگا نہ نے بھی سر ا ہا نہیں کہ و قت نہ تھا مجا ز نے تیر ے آ نچل کو کر د یا پر چم تجھے گلے سے لگا یا نہیں کہ و قت نہ تھا…
-

رُخصت اے بزمِ جہاں! ( ماخوذ از ایمرسن) رُخصت اے بز…
رُخصت اے بزمِ جہاں! ( ماخوذ از ایمرسن) رُخصت اے بزمِ جہاں! سُوئے وطن جاتا ہوں مَیں آہ! اس آباد ویرانے میں گھبراتا ہوں مَیں بسکہ مَیں افسردہ دل ہوں، درخورِ محفل نہیں تُو مرے قابل نہیں ہے، مَیں ترے قابل نہیں قید ہے، دربارِ سُلطان و شبستانِ وزیر توڑ کر نکلے گا زنجیرِ طلائی…
-

تُو امیرِ حرم مَیں فقیرِ عجم تیرے گُن اور یہ لب مَ…
تُو امیرِ حرم مَیں فقیرِ عجم تیرے گُن اور یہ لب مَیں طلب ہی طلب تُو عطا ہی عطا تُو کُجا من کُجا تُو ابد آفریں مَیں ہُوں دو چار پل تُو یقیں مَیں گُماں مَیں سُخن تُو عمل تُو ہے معصُومیت مَیں نِری مَعصِیَت تُو کرم مَیں خطا تُو کُجا من کُجا تُو ہے…
-

محمد فہیمؔ کانٹوں کو چُوم لے نہ کوئی اِضطراب …
محمد فہیمؔ کانٹوں کو چُوم لے نہ کوئی اِضطراب میں رکھ دی ہے کِس نے آپ کی خُوشبو گُلاب میں مہکا رہا ہے آج بھی میرے وجود کو رکھا تھا اِک گُلاب جو تُو نے کتاب میں تھا کِس کی آستین پہ مقتول کا لہُو لکھا گیا ہے قتل یہ کِس کے حِساب میں پھرتا…