Category: منتخب غزلیں
-

فرید جاوید ، ایک منفرد لب و لحجہ کا غزل گو شاعر قم…
فرید جاوید ، ایک منفرد لب و لحجہ کا غزل گو شاعر قمر الدین خورشید محبوب سے قربت کس کو پیاری نہیں ہوتی، غزل کی صنف اسی ناتے سے غزل کہلاتی ہے، ولی دکنی سے لے کر غالب تک اور غالب سے لے کر فیض تک اور بعد میں آنے والے شعراء سبھی اس کے…
-

حبیب جالبؔ جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں ت…
حبیب جالبؔ جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی حالات کا ماتم تھا ملاقات کہاں تھی اس نے نہ ٹھہرنے دیا پہروں مرے دل کو جو تیری نگاہوں میں شکایت مری جاں تھی گھرمیں بھی کہاں چین سے سوئے تھے کبھی ہم جو رات ہے زنداں میں وہی رات وہاں تھی یکساں…
-
جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ جو …
جو چلا گیا سو چلا گیا جو ہے پاس اس کا خیال رکھ جو لٹا دیا اسے بھول جا جو بچا ہے اس کو سنبھال رکھ کبھی سر میں سودا سما کوئی کبھی رہگزار میں رقص کر کبھی زخم باندھ کے پاؤں میں کہیں سرخ سرخ دھمال رکھ کسی تارہ تارہ فراق سے کوئی گفتگو…
-
"اندازِ بیاں اور” سُنتا ہُوں کہ اُردُوۓ مُعلّیٰ ک…
"اندازِ بیاں اور” سُنتا ہُوں کہ اُردُوۓ مُعلّیٰ کے سُخن ور! کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور اور خود بھی ہے اُس مردِ قلندر کا یہ دعویٰ حق نے مُجھے بخشا ہے سُخن اور زباں اور غالبؔ کا ہو اندازِ بیاں لاکھ نِرالا غالبؔ میں ہے اِک نُدرت پیداؤ نِہاں اور وہ…
-

بیخودؔ دہلوی کبھی حیا اُنھیں آئی ،کبھی غرُور آیا …
بیخودؔ دہلوی کبھی حیا اُنھیں آئی ،کبھی غرُور آیا ہمارے کام میں سو سو طرح فتُور آیا ہزار شُکر وہ عاشِق تو جانتے ہیں مجھے جو کہتے ہیں کہ تِرا دِل کہیں ضرُور آیا جو با حواس تھا، دیکھا اُسی نے جلوۂ یار جسے سرُور نہ آیا اُسے سرُور آیا خُدا وہ دِن بھی دِکھائے…
-

مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے مرزا غالب مسجد کے زی…
مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے مرزا غالب مسجد کے زیر سایہ خرابات چاہیے بھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے عاشق ہوے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی ہاں کچھ نہ کچھ تلافی مافات چاہیے سیکھے ہیں مہ رخوں…
-

غَیر لیں محفِل میں بوسے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ ل…
غَیر لیں محفِل میں بوسے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے خَستگی کا تُم سے کیا شکوہ کہ یہ ہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے خط لِکھیں گے گرچہ مطلب کُچھ نہ ہو ہم تو عاشِق ہیں تمھارے نام کے رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم دھوئے دھبّے جامۂ احرام…
-

ایک زمین مرزا اسد اللہ خان غالبؔ تلوک چند محرومؔ ۔…
ایک زمین مرزا اسد اللہ خان غالبؔ تلوک چند محرومؔ ۔۔۔۔۔ غالبؔ شُمارِ سُبَحہ مرغُوبِ بُتِ مُشکِل پسند آیا تماشائے بہ یک کفِ بُردنِ صد دِل پسند آیا بہ فیضِ بے دِلی نَومیدیٔ جاوید آساں ہے کشائش کو ہمارا عُقدۂ مُشکِل پسند آیا ہَوائے سیرِ گُل آئینۂ بے مِہریِ قاتِل کہ اندازِ بَخُوں غلطِیدنِ بِسمِل…
-

جب ہوئی رائے شماری سبھی صادق ٹھہرے ایک ہم تھے کہ ج…
جب ہوئی رائے شماری سبھی صادق ٹھہرے ایک ہم تھے کہ جو بستی میں منافق ٹھہرے شہر کے باغ میں ہو جائے ملاقات تو پھر کون گلیوں میں رکے کون پسِ چق ٹھہرے آج کے دن بھی مرا رزق نہ مجھ پر اترا آج کے دن بھی پڑوسی مرے رازِق ٹھہرے کوئی چاہے کہ نہ…
-
