Category: منتخب غزلیں
-

منٹو کی آج برسی کی مناسبت سے نامی انصاری کی ایک نظ…
منٹو کی آج برسی کی مناسبت سے نامی انصاری کی ایک نظم "مرگ چمن” آپ کی نذر… "مرگ چمن” شاخ گل ٹوٹ گئی،موج صبا رقصاں ہے مرگ منٹو سے یہاں روح ادب نوحہ کناں اک ستارہ کہ حوادث نے جسے پالا تھا اک مفکر کہ بدلنا تھا جسے نظم چمن ہائے وہ رند، کہ دانا…
-
حسن فرخ : ہیں چرائے ہوئے دن رات کہیں بھاگ چلو چاک …
حسن فرخ : ہیں چرائے ہوئے دن رات کہیں بھاگ چلو چاک ہے پیرہنِ ذات کہیں بھاگ چلو دن تو سورج کی تمازت میں جلا اور بجھا ہم سے کچھ پوچھ نہ لے رات کہیں بھاگ چلو
-
جو کام تم سے نہیں ہو سکا تمھیں معلوم وہ کام ہم ہی …
جو کام تم سے نہیں ہو سکا تمھیں معلوم وہ کام ہم ہی ، ہمیں کھو کے کر گئے شاید (اقبال متین)
-

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو ۔ شیخ محمد ابراہیم ذو…
زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو ۔ شیخ محمد ابراہیم ذوؔق عزیزو! اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو یہ عمرِ رفتہ کی اپنی صدائے پا سمجھو بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو نہ سمجھو دشتِ شفا خانۂ جنوں ہے یہ …
-

اِک اِسی بات پہ پُھولے نہ سمائے ہم بھی شُک…
اِک اِسی بات پہ پُھولے نہ سمائے ہم بھی شُکر صد شُکر تمھیں یاد تو آئے ہم بھی مہرباں وہ ترے لہجے سے برستا ساون جس کی رِم جِھم میں بڑی دیر نہائے ہم بھی لوگ حیران ہیں کیوں دیکھ کے تُم کو آخر اِس تجَسُس میں تُمہیں دیکھنے آئے ہم بھی مُفت کے مشورے…
-
وہ خواب تھا بکھر گیا ، خیال تھا ملا نہیں مگر ی…
وہ خواب تھا بکھر گیا ، خیال تھا ملا نہیں مگر یہ دل کو کیا ہوا، کیوں بجھ گیا پتا نہیں ہر ایک دن اداس دن ، تمام شب اداسیاں کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں قدم قدم سفر میں اب کوئی…
-

ایک زمین مرزا غالبؔ دہلوی راغبؔ مرادآبادی ۔۔۔۔۔ غا…
ایک زمین مرزا غالبؔ دہلوی راغبؔ مرادآبادی ۔۔۔۔۔ غالبؔ عالم جہاں بعرضِ بِساطِ وُجُود تھا جُوں صُبح چاکِ جیب مُجھے تار و پُود تھا جُز قیس اور کوئی نہ آیا برُوئے کار صحرا مگر بہ تنگیِ چشمِ حُسُود تھا بازی خورِ فریب ہے اہلِ نظر کا ذوق ہنگامہ گرم حیرتِ بُود و نمُود تھا عالم…
-
اپنی منزِل کو پا لِیا ہے مَیں نے اللہ کا شُکر ادا …
اپنی منزِل کو پا لِیا ہے مَیں نے اللہ کا شُکر ادا کِیا ہے مَیں نے غالبؔ کی دِل کش غزلوں کو راغبؔ نعتوں کا لِباس دے دیا ہے مَیں نے۔۔۔! راغبؔ مرادآبادی
-

-

ناصرؔ کاظمی جب تک نہ لہُو دِیدۂ انجم میں ٹپک لے …
ناصرؔ کاظمی جب تک نہ لہُو دِیدۂ انجم میں ٹپک لے اے دِل! قَفَسِ جاں میں ذرا اور پھڑک لے ذرّے ہیں ہَوس کے بھی زرِ نابِ وفا میں ہاں جِنسِ وَفا کو بھی ذرا چھان پھٹک لے پھر دیکھنا اُس کے لَبِ لعلِیں کی اَدائیں یہ آتِشِ خاموش ذرا اور دہک لے گوُنگا ہے…