Category: منتخب غزلیں
-

” آنسو” بھرے اشعار …………………. آنکھ کمب…
” آنسو” بھرے اشعار …………………. آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر حفیظ جالندھری ……. آلودہ بہ خوں چشم سے ٹپکے ہے جو آنسو سب کہتے ہیں حیرت سے یہ موتی ہے کہ مونگا جرأت قلندر بخش …… آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو اک…
-

ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی پیدائش Jan 26, 1926 ڈاکٹر…
ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی پیدائش Jan 26, 1926 ڈاکٹر صاحب کا اصل نام سید دلدار علی اور قلمی نام فرمان فتح پوری ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری 26جنوری 1926ء کو فتح پور ( ہسوہ) میں پیدا ہوئے۔ناظرہ قرآن اور فارسی کی ابتدائی کتابیں مثل مصدر نامہ، گلستان، بوستان وغیرہ اپنے والد عاشق علی صاحب…
-

-

-
"”مُجھے معلُوم ہے سَب کُچھ”” مجھے معلوم ہے سب کچھ…
????””مُجھے معلُوم ہے سَب کُچھ””???? مجھے معلوم ہے سب کچھ! کہ وہ حرفِ وفا سے اجنبی ہے! وہ اپنی ذات سے ہٹ کر بہت کم سوچتی ہے! وہ جب بھی آئینہ دیکھے تو بَس اپنے ہی خال و خد کے تیور دیکھتی ہے___!! اُسے اپنے بَدن کے زاویے ،قوسیں، مثلّث، مستطیلیں بازوؤں کی دسترس میں…
-

راہ ِ وفا میں ہر سو کانٹے دھوپ زیادہ سائے کم لیکن …
راہ ِ وفا میں ہر سو کانٹے دھوپ زیادہ سائے کم لیکن اس پر چلنے والے خوش ہی رہے پچھتائے کم آہ یہ ظالم تلخ حقیقت جتنے بھی سفینے غرق ہوئے اکثر اپنی موج میں ڈوبے طوفاں سے ٹکرائے کم راہروی کا سب کو دعویٰ سب کو غرورِ عشق و وفا راہِ وفا پر چلنے…
-
فاطمہ حسن کبھی راستے میں ٹھہر گئے کبھی منزلوں سے …
فاطمہ حسن کبھی راستے میں ٹھہر گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے کبھی خواہشِ در و بام میں جو گئے تو اوروں کے گھر گئے نہ تھی آرزو کسی دوست کی نہ کسی رفیق کی جُستجو کہیں اجنبی سے بھی مل لیے کہیں دوستی سے مُکر گئے نہیں زندگی سے کوئی گلہ کہ تھا خواب…
-
الٰہی محبوب کل جہاں کو دل و جـــــــگر کا سلام پہن…
الٰہی محبوب کل جہاں کو دل و جـــــــگر کا سلام پہنچے نفس نفس کا درود پہنچے، نظر نظر کا سلام پہنچـــــــے ۔ بساط عالم کی وسعتوں سے، جہان بالا کی رفعتوں سے ملک ملک کا درود اترے، بشر بشر کا سلام پہنچــــــــــے ، زبـــــان فطرت ہـــــــــــے اس پہ ناطق، ببارگاہ نبی صادق شجر شجر کا…
-

علامہ اقبالؔ انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نِرالے …
علامہ اقبالؔ انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نِرالے ہیں یہ عاشِق کون سی بستی کے یا رب! رہنے والے ہیں عِلاجِ درد میں بھی، درد کی لذّت پہ مرتا ہُوں جو تھے چھالوں میں کانٹے نوکِ سُوزن سے نِکالے ہیں پَھلا پُھولا رہے یا رب! چَمن میری اُمیدوں کا جِگر کا خُون دے دے…
-

خُدا نے کیوں دلِ درد آشنا دیا ہے مجھے اِ…
خُدا نے کیوں دلِ درد آشنا دیا ہے مجھے اِس آگہی نے تو پاگل بنا دیا ہے مجھے تمہی کو یاد نہ کرتا تو اور کیا کرتا تمہارے بعد سبھی نے بُھلا دیا ہے مجھے صعوبتوں میں سفر کی کبھی جو نیند آئی میرے بدن کی تھکن نے اُٹھا دیا ہے مجھے میں وہ چراغ…