اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

علامہ اقبالؔ انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نِرالے …


علامہ اقبالؔ

انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نِرالے ہیں​
یہ عاشِق کون سی بستی کے یا رب! رہنے والے ہیں​

عِلاجِ درد میں بھی، درد کی لذّت پہ مرتا ہُوں​
جو تھے چھالوں میں کانٹے نوکِ سُوزن سے نِکالے ہیں​

پَھلا پُھولا رہے یا رب! چَمن میری اُمیدوں کا​
جِگر کا خُون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں​

رُلاتی ہے مُجھے راتوں کو خاموشی سِتاروں کی​
نِرالا عِشق ہے میرا، نِرالے میرے نالے ہیں​

نہ پُوچھو مُجھ سے لذّت خانماں برباد رہنے کی​
نَشیمن سینکڑوں مَیں نے بناکر پُھونک ڈالے ہیں​

نہیں بَیگانگی اچّھی رفیقِ راہِ منزِل سے​
ٹھہرجا اے شَرر! ہم بھی تو آخرمِٹنے والے ہیں​

اُمیدِ حُور نے سب کُچھ سِکھا رکھّا ہے واعظ کو​
یہ حضرت دیکھنے میں سِیدھے سادے، بھولے بھالے ہیں​

مِرے اشعار اے اقبالؔ! کیوں پیارے نہ ہوں مُجھ کو
مِرے ٹُوٹے ہُوئے دِل کے، یہ دردانگیز نالے ہیں

علامہ اقبالؔ