پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

Ahmed Faraz سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں



سُنا ہے لَوگ اُسے آنکھ بَھر کے دیکھتے ہیں
سَو اُس کے شہر میں کُچھ دِن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے رَبط ہے اُس کو خراب حالوں سے
سَو اَپنے آپ کو بَرباد کر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے دَرد کی گاہک ہے چَشمِ ناز اُس کی
سَو ہَم بھی اُس کی گَلی سے گُزر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شَغف
سَو ہَم بھی مُعجِزے اَپنے ہُنر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے بولے تو باتوں سے پُھول جَھڑتے ہیں
یہ بات ہے تَو چَلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے رات اُسے چاند تَکتا رہتا ہے
سِتارے بامِ فَلَک سے اُتر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے دِن کو اُسے تِتلِیاں سَتاتی ہیں
سُنا ہے رات کو جُگنُو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے حَشر ہیں اُس کی غَزال سی آنکھیں
سُنا ہے اُس کو ہَرن دَشت بھر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے رات سے بَڑھ کر ہیں کاکُلیں اُس کی
اُسے قَرِیب سائے گُزر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے اُس کی سِیہ چَشمَگی قِیامَت ہے
سَو اُس کو سُرمَہ فروش آہ بَھر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے اُس کے لَبوں سے گُلاب جَلتے ہیں
سَو ہَم بہار پہ اِلزام دَھر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے آئنہ تِمثال ہے جَبِیں اُس کی
جو سادَہ دِل ہیں اُسے بن سَنوَر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے جَب سے حَمائِل ہیں اُس کی گَردَن میں
مِزاج اَور ہی لَعل و گُہر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے چال پہ اُس کی چکور عاشِق ہیں
پَلَنگ زاوِیے اُس کی کَمر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے اُس کے بَدَن کی تراش اَیسی ہے
کہ پُھول اَپنی قَبائیں کَتر کے دیکھتے ہیں
وہ سَرو قَد ہے مَگَر بے گُل مُراد نہیں
کہ اِس شَجر پہ شَگُوفے ثَمر کے دیکھتے ہیں
بَس اِک نِگاہ سے لُٹتا ہے قافَلہ دِل کا
سَو رَہروانِ تَمنّا بھی ڈَر کے دیکھتے ہیں
سُنا ہے اُس کے شَبِستاں سے مُتَّصِل ہے بِہِشت
مَکِیں اِدَھر کے بھی جَلوے اُدھر کے دیکھتے ہیں
رُکے تَو گَردِشیں اُس کا طَواف کَرتی ہیں
چَلے تَو اُس کو زَمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کِسے نَصِیب کہ بے پیرہن اُسے دیکھے
کَبھی کَبھی دَر و دِیوار گَھر کے دیکھتے ہیں
کہانِیاں ہی سہی سب مُبالغے ہی سہی
اَگر وہ خواب ہے تَعبِیر کَر کے دیکھتے ہیں
اَب اُس کے شہر میں ٹھہریں کہ کُوچ کر جائیں
فرازؔ آؤ سِتارے سَفَر کے دیکھتے ہیں۔۔۔!
احمد فرازؔ