منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

__محمود درويش جیسے پردیسیوں کی سڑک پر ایک چھوٹا سا کیفے…!! وہی محبت ہے!! ج…


__محمود درويش

جیسے پردیسیوں کی سڑک پر ایک چھوٹا سا کیفے…!!

وہی محبت ہے!!

جس کے در سب زائرین کے لیے کھلے ہیں

وہ کیفے جو طرزِ موسم پر آباد و ویران ہوتا ہے

جب بارش برستی ہے تو

اس کے عاشقوں میں اضافہ ہو جاتا ہے

معتدل فضا میں ،

وہ اکتا کر کم پڑ جاتے ہیں

اے اجنبی لڑکی ! میں یہاں کونے میں بیٹھا ہوا

[تمھاری آنکھوں کا رنگ کیسا ہے؟
اور تمھارا نام کیا ہے؟
تمھارا انتظار کرتے سمے جب تم میرے پاس سے گزرو تو تمھیں کیا کہہ کر پکاروں؟]

وہ چھوٹا سا کیفے…!!

وہی محبت ہے!!

میں نے فقط نبیذ کے دو جام آرڈر دیا ہے

ایک گھونٹ میرا ، ایک گھونٹ تمہارا

میرے پاس دو ہیٹ اور ایک چھتری ہے

اب !! بارش شروع ہوگئی ہے

یہ معمول سے زیادہ برس رہی ہے،

لیکن تم نہیں آتیں!!

آخر میں خود سے ہی کہنے لگتا ہوں:

شاید جس کا میں منتظر ہوں

اس نے میرا انتظار کیا ہو؟

یا ممکن ہے وہ کسی دوسرے شخص کی منتظر ہو !!

شاید اس نے ہمارا انتظا کیا ہو !!

اور اس اجنبی شخص میں !!

مجھے نہ پہچان سکی ہو !!

اور اسے کہتی ہو :

میں یہاں تمہاری ہی منتظر ہوں !!

[ تمہاری آنکھوں کا رنگ کیسا ہے ؟
تم کون سی نبیذ پسند کرو گے ؟
تمہارا نام کیا ہے ؟
جب تم میرے سامنے سے گزرو تو
تمہیں کیا کہہ کر پکاروں؟ ]

کسی چھوٹے سے کیفے کی طرح !!

وہی محبت ہے !!

كمقهى صغير على شارع الغرباء –
هو الحُبُّ… يفتح أَبوابه للجميع.
كمقهى يزيد وينقُصُ وَفْق المُناخ:
إذا هَطَلَ المطُر ازداد رُوَّادُهُ،
وإذا اعتدل الجوُّ قَلُّوا ومَلُّوا..
أنا ههنا – يا غريبةُ – في الركن أجلس
[ما لون عينيكِ؟ ما اُسمك؟ كيف
أناديك حين تَمُرِّين بي, وأنا جالس
في انتظاركِ؟]
مقهى صغيرٌ هو الحبُّ.

أَطلب كأسَيْ
نبيذٍ وأَشرب نخبي ونخبك . أَحمل
قُبَّعتين وشمسيَّةً. إنها تمطر الآن.
تمطر أكثر من أَيّ يوم، ولا تدخلين.
أَقول لنفسي أَخيراً: لعلَّ التي كنت
أنتظرُ انتظَرَتْني… أَو انتظرتْ رجلاً
آخرَ – انتظرتنا ولم تتعرف عليه / عليَّ,
وكانت تقول: أَنا ههنا في انتظاركَ.
[ما لون عينيكَ؟ أَيَّ نبيذٍ تحبُّ؟
وما اُسمُكَ ؟ كيف أناديكَ حين
تمرُّ أَمامي]
كمقهى صغيرٍ هو الحُبّ….


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3852763664954138