طلسم : روما رضوی
طلسم
دھیرے دھیرے بڑھ رہا ہے رات کا گہرا طلسم
روشنی اپنے ہی اندر اب سمٹتی جائے گی
اور بھی حیران کن ہونگی کچھ اگلی ساعتیں
تیرگی کی سلطنت جوں جوں بکھرتی جائے گی
کچھ تو خاموشی کے پہرے لگ گئے ہیں شام سے
اور کچھ کہتی زباں بھی مصلحت بن جائے گی
آشیانے فاختاؤں کے اُجاڑے گا کوئئ
پر ہوا الزام چیلوں پر لگاتی جائے گی
ننھی ننھی کونپلوں کو روند ڈالے گی ہوا
جڑ سے ان کو نوچتی کوسوں رگڑتی جائے گی
اور شائد! آستینوں میں پلے آلام کو
روشنی کی ڈوبتی سی ایک کرن بہلائے گی