
میں اک شاہپارہ ء قدرت ہوں ، یعنی آدمی ہوں میں
جسے انسان کہتے ہیں، وہ فخر ِِ زندگی ہوں میں
گناہوں میں چڑھی پروان، وہ دوشیزگی ہوں میں
ہر اک شاعر کی فطرت میں ہے جو آوارگی، ہوں میں

کھنک ساغر کی، غنچے کی چٹک، پھولوں کی شادابی
کسی سوئے ہوئے معصوم بچے کی ہنسی ہوں میں
مری تنہائیاں ، میرے لیے، محفل بداماں ہیں
بھری محفل ہے اور تنہائیوں کی خامشی ہوں میں
مجھے شدت کی تنہائی میں یوں محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے دشت میں بھٹکی ہوئی آواز سی ہوں میں
—————–
تصورات کا حجرہ ہے دیدہ ء پُر آب
میں اب بھی دیکھ رہا ہوں وہی ادھورے خواب
قدم قدم پہ اٹھاتی ہے ظلمتوں کے نقاب
نگاہ ایک تجلی نواز و سینہ تاب
نظر نظر متجسس، نظر نظر بے تاب
نہ آ سکے گا مجھے راس یہ جہان ِ خراب
یہ کس نے دست ِ نگاریں بڑھا کے کھینچ لیا
رُخ ِ عروس ِ شفق سے نقابِ رنگ ِ سحاب
مرے جنون ِ محبت پہ تازیانہ ہیں
یہ بھیگی بھیگی سی آنکھوں میں جھانکتے سے خواب
Advertisements

خدا نخواستہ، خلوت میں تم اگر سن لو
یہ محرمانہ تکلم ، یہ مجرمانہ خطاب!
Related

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔