18؍جولائی 1988
قمرؔ اقبال کا یومِ وفات
نام محمّد اقبال خان تخلص قمرؔ اقبال ۔ 2؍فروری 1944ء کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ 18؍ جولائی 1988 کو اورنگ آباد میں انتقال کر گئے
منتخب کلام
دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگا
موند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگا
کس قدر اپنائیت اس اجنبی بستی میں تھی
گو کہ ہر چہرہ تھا بیگانہ مگر اپنا لگا
پاس سے ہو کر جو وہ جاتا تو خوش ہوتے مگر
اس کا کترا کر گزرنا بھی ہمیں اچھا لگا
اس گھڑی کیا کیفیت دل کی تھی کچھ ہم بھی سنیں
تو نے پہلی بار جب دیکھا ہمیں کیسا لگا
جس قدر گنجان آبادی تھی اس کے شہر کی
جانے کیوں ہر شخص ہم کو اس قدر تنہا لگا
جسم کا آتش کدہ لے کر تو پہنچے تھے وہاں
ہاتھ جب اس کا چھوا تو برف سے ٹھنڈا لگا
جب کسی شیریں دہن سے گفتگو کی اے قمرؔ
اپنا لہجہ بھی ہمیں اس کی طرح میٹھا لگا
………………
خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں
قرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوں
کس کو فرصت جو مری بات سنے زخم گنے
خاک ہوں خاک اڑانے کے لیے زندہ ہوں
لوگ جینے کے غرض مند بہت ہیں لیکن
میں مسیحا کو بچانے کے لیے زندہ ہوں
روح آوارہ نہ بھٹکے یہ کسی کی خاطر
سارے رشتوں کو بھلانے کے لیے زندہ ہوں
خواب ٹوٹے ہوئے روٹھے ہوئے لمحے وہ قمرؔ
بوجھ کتنے ہی اٹھانے کے لیے زندہ ہوں
……………..
سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا
موم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگا
خواب کاغذ کے سفینے ہیں بچائیں کیسے
ختم اس آگ کے دریا کا سفر کب ہوگا
جس کا نقشہ ہے مرے ذہن میں اک مدت سے
گھر وہ تعمیر سے پہلے ہی کھنڈر کب ہوگا
میرے کھوئے ہوئے محور پہ جو پہنچائے مجھے
اب لہو میں مرے پیدا وہ بھنور کب ہوگا
سبز رکھا ہے جسے میں نے لہو دے کے قمرؔ
مہرباں دھوپ میں آخر وہ شجر کب ہوگا
………………………..
