پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ افسانے

‏1506 میں فرینکفرٹ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک تاجر اپنا بٹوا کھو دیتا ہے جس میں …


‏1506 میں فرینکفرٹ میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ایک تاجر اپنا بٹوا کھو دیتا ہے جس میں 800 سونے کے سکے تھے ۔ ایک راہگیر بڑھئی اتفاقاً اس تاجر کا بٹوہ پاتا ہے۔ یہ بڑھئی بہت دیندار تھا اور کسی کو بھی نہیں بتاتا کہ اسے بٹوہ ملا ہے، اور سوچتا ہے کہ اتنا زیادہ پیسہ کھونے کے بعد مالک لازمی اس کی تلاش کرے گا۔
اگلے دن بڑھئی گرجا گھر جاتا ہے۔ پادری اعلان کرتا ہے کہ ایک تاجر جس نے فرینکفرٹ میں قدم رکھا ہے، اپنا بٹوہ کھو چکا ہے جس میں 800 سونے کے سکے ہیں۔ جو اسے پائے گا، اسے 100 سونے کے سکوں کا انعام ملے گا۔ اس پر بڑھئی پیسے واپس لاتا ہے اور پادری کے حوالے کرتا ہے۔ تاجر آتا ہے اور بٹوہ لیتا ہے، لیکن وہ بڑھئی کو وعدہ کیے گئے 100 سونے کے سکے دینے سے انکار کر دیتا ہے۔
بڑھئی تاجر سے اپنا وعدہ نبھانے کا تقاضا کرتا ہے، لیکن لالچی تاجر دعویٰ کرتا ہے کہ بٹوے میں 900 سکے تھے، نہ کہ 800، تاکہ اسے انعام نہ دینا پڑے۔ وہ دعویٰ کرتا ہےکہ بڑھئی نے بٹوے سے کچھ پیسے نکالے ہیں۔ پادری بڑھئی کی حمایت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بڑھئی کو جانتا ہے، وہ ایک ایماندار آدمی ہے۔ وہ کبھی ایسا کام نہیں کرے گا
بحث بڑھتی جاتی ہے۔ پادری تاجر اور بڑھئی کو فرینکفرٹ کے عدالتی محل لے جاتا ہے۔ جج مقدمے کی سماعت شروع کرتا ہے اور تاجر سے کہتا ہے کہ اپنا ہاتھ بائبل پر رکھ کر قسم کھائے کہ اس نے 900 سکے کھوئے تھے۔ تاجر بلاجھجھک ہاتھ بائبل پر رکھتا ہے اور قسم کھا لیتا ہے۔ جج بڑھئی سے بھی کہتا ہے کہ وہ قسم کھائے کہ اسے 800 سکے ملے تھے۔ بڑھئی بھی اپنا ہاتھ بائبل پر رکھ کر قسم کھا لیتا ہے۔
سب جج کے فیصلے کا انتظار کرتےہیں۔ جج کہتا ہے سب کچھ واضح ہے: "بڑھئی کو 800 سکے ملے تھے اور تاجر نے 900 سکے کھوئے تھے۔ لہٰذا، جو بٹوہ بڑھئی کو ملا، وہ تاجر کا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے، چونکہ کوئی مالک سامنے نہیں آیا، وہ پیسے بڑھئی کے ہیں اور تاجر اپنے900 سکوں کی تلاش جاری رکھ سکتا ہے۔”
ایک لالچی تاجر، جو ایک غریب بڑھئی کا حق مارنا چاہتا تھا، ایک منصف جج کے ہاتھوں سزا پا گیا۔

منتخب



Source