●۔۔۔سائبان~ (راجستھانی بچّے کا گیت) اے تپتے اُ…
●۔۔۔سائبان~
(راجستھانی بچّے کا گیت)
اے تپتے اُفق کے نیچے لیٹے؛
میلوں کی مسافت تک کروٹیں لیتے راجستھان!
تمہاری سنہری ریت کے سراب میں کہیں
اکثر؛ میری ننھی چھاگل کو مل ہی جاتا ہے
چند بوندوں کا سامان
لیکن تمہاری ؛ روح کو کریدتی زہریلی لو میں مجھ کو نہیں ملتا کہیں بھی کوئی سائبان۔
میرا لنگوٹیا ساتھی؛راجہ اور میں تیرے سینے پہ رواں رہتے ہیں؛
یہ راجہ میرا بھائی ہے؛ ہاں میرا بھائی
اس کا باپ بھی دو کہانوں والا تھا جو میرے باپ کی طرح مر چکا ہے،
یہ مجھ سے چھوٹا ہے لیکن مجھ سے زیادہ
بڑا اور طاقتور۔۔۔۔
جب کبھی کوئی گوری میم جیسلمیر کی سیر کو آئی؛اس کے ہودج سے نیچے اتر کر
میری پیٹھ تھپکاتی ہے؛ اور میرے گال کو چوم لیتی ہے؛ تو راجہ مجھے ٹکٹکی باندھ کر گھورتا ہے
جیسے میں اس سے دھوکا کر رہا ہوں،،
نہیں پیارے راجہ!
میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔
لیکن تمہارے ہودج میں ،میں کوسوں دور جا سکتا ہوں لیکن یہ بھی سائبان نہیں بن سکتا
صرف تھکن سے آسرا ہے۔۔۔۔۔
راجہ کی آنکھیں اور میری ایڑیاں تانبے کی طرح پک چکیں ہیں؛
مگر اے راجستھان! دیکھ لے ہم قائم ہیں؛
سیاحوں کے پیسوں سے خربوزے اور برف کی میٹھی قاشیں کھاتے ہوئے؛
تیری خاک پر رواں ہیں۔
پچھلے برس بوڑھے جوگی کی گھریا بھی تیرے
بگولوں سے بھرے طوفان میں نابود ہوگئی؛
جو اک سائبان تھی ہماری ،اب
ہم تیری تپش کی رو میں بہتے جاتے ہیں؛
اپنے زرد آسان سے کہہ دے کہ ہم کو اک سائبان کی تلاش ہے۔۔۔۔اک سائبان کی تلاش ہے۔
ماں کہتی ہے تیری زمین پھول نہیں اگاتی
لیکن تو بتا؛ کیا یہ کالے اور پیلے بچے،
جو راجہ کو دیکھ کر تالیاں بجاتے ہیں؛اور تیری اڑتی ریت سے بے نیاز آنکھ مچولی کھیلتے ہیں،
کیا یہ پھول نہیں؟ ہاں پیارے راجستھان یہ تیرے پھول ہیں۔
جب تیری ارغوانی شام کو ؛میں راجہ کی گردن پر سر رکھے گھر کو آتا ہوں؛
ماں میری راہ تکتی ہے اور نیولے جھاڑیوں سے نکل کر ٹھندی ریت کریدتے ہیں،
میں اس لمحے
اپنی ریت سے اٹی گلیوں پر نظر مارتا ہوں
تو میں کوئی سائبان نہیں پاتا،
لیکن جب ماں اپنا بھیگا آنچل میرے ماتھے پر ڈالتی ہے تو میرا من کہتا ہے، شاید یہی ہے سائبان،،،،،
اے صحراؤں کے شہزادے!
مجھے مل ہی جاتا ہے سائبان ،،،،
میرا اپنا سائبان۔
????#راجستهاني
#حنظله_خليق
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2787325861497929