۳ مارچ___بزرگ و اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی شاعِر سعید احمد اخترؔ کے یومِ ولادت پر
حسیں آتے رہے جاتے رہے ہیں
ہم اپنے دل کو سمجھاتے رہے ہیں
کبھی خیرات بھی جس نے نہیں دی
اُسی گُل رُو کے گُن گاتے رہے ہیں
جنابِ شیخ حوروں کی طلب میں
خُدا سے عشق فرماتے رہے ہیں
ملے تھے ہاتھ جو محنت کی خاطر
انہیں ہم صرف پھیلاتے رہے ہیں
وفا خشکی پہ کشتی کھینچنا ہے
عبث ہم جی کو سلگاتے رہے ہیں
کہاں ہم اور کہاں کی شعر گوئی
یونہی بس دِل کو بہلاتے رہے ہیں
سعید احمد اخترؔ
از:-بیچے تو بِک جاؤں ص ۱۶۰
(بشُکرِیَہ عماد قاصر صاحب)
انتخاب
سفید پوش
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔