۲۰ فروری ممتاز شاعر غلام مُحمد قاصرؔ کے یومِ وفات پر
فضائے صحنِ چمن جن کو سازگار آئی
اُنہی گُلوں کا پتا پوچھ کر بہار آئی
ہزار بار مجھے لے گئی ترے در پر
وہ آرزو، جو مرے دل میں ایک بار آئی
لگا جو زخم تو ٹُوٹا حصار خوابوں کا
کُھلی جو آنکھ تو پتّھر سے بوئے یار آئی
جہاں ٹھہر نہیں سکتی شعاعِ مہر اِک پَل
مِری نگاہ وہیں زندگی گزار آئی
قمار خانہءِ غم میں مِری زیاں کاری
خوشی نہ جیت سکی اور تجھے بھی ہار آئی
سُلا کے سیج پہ قاصرؔ سُلگتی یادوں کو
شَبِ فراق اُنہیں ہر طرف پکار آئی
غلام مُحمّد قاصرؔ
۱۹۶۷(ڈیرہ اسماعیل خان)
از:-آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے (کُلّیاتِ قاصرؔ) ص ۲۶۳/۲۶۴
انتخاب
سفیدپوش
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔