یہ کہہ کے آگ وہ دل میں لگائے جاتے ہیں چراغ خود نہ…


یہ کہہ کے آگ وہ دل میں لگائے جاتے ہیں
چراغ خود نہیں جلتے جلائے جاتے ہیں

اب اس سے بڑھ کے ستم دوستوں پہ کیا ہوگا
وہ دشمنوں کو گلے سے لگائے جاتے ہیں

غریبی جرم ہے ایسا کہ دیکھ کر مجھ کو
نگاہیں پھیر کے اپنے پرائے جاتے ہیں

کشش چراغ کی یہ بات کر گئی روشن
پتنگے خود نہیں آتے بلائے جاتے ہیں

تجلیوں کے حجابات ہیں خیال رہے
یہ پردے دست نظر سے اٹھائے جاتے ہیں

ہمیں ملی ہے جگہ جب سے آپ کے دل میں
جہاں ہیں آپ وہاں ہم بھی پائے جاتے ہیں

نہ پوچھ حال شب غم نہ پوچھ اے پرنمؔ
بہائے جاتے ہیں آنسو بہائے جاتے ہیں

(پُرنم الہ آبادی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


Comments

14 responses to “یہ کہہ کے آگ وہ دل میں لگائے جاتے ہیں چراغ خود نہ…”

  1. تجلیوں کے حجابات ہیں خیال رہے,
    یہ پردے دست نظر سے اٹھائے جاتے ہیں

  2. بہت عمدہ۔
    آنچل میں چھپا لیتے ہیں شمع رخ روشن,,!

    پروانے تو جل جائیں وہ جلنے نہیں دیتے,,!
    پُرنم الہ آبادی

جواب دیں