منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

یہ فیس بک ہے، یہاں سب عظیم شاعر ہیں …… عارف ام…


یہ فیس بک ہے، یہاں سب عظیم شاعر ہیں …… عارف امام

کوئی فقیہہ، نہ مرشِد، نہ پِیر ہیں جانی
کہ ہم تو دامِ ہوَس کے اسیر ہیں جانی

رُکے ہیں اک ذرا دہلیز چومنے کے لئے
چلے ہی جائیں گے ہم، راہ گیر ہیں جانی

ترنگِ عشق سے خالی نہیں ہے جا کوئی
یہاں بِھٹائی، وہاں پر کبیر ہیں جانی

لٹائیں جان بھی اک سکۂِ نظر کے لئے
طبیعتاََ یہ گداگر امیر ہیں جانی

زمین گرم ہے اور آسمان دور تو کیا
یہیں کہیں وہ مرے دست گیر ہیں جانی

چلائے جا کہ یہ سینہ چِھدا نہیں پورا
نشانہ باندھ کہ ترکش میں تیر ہیں جانی

بنا بنا کے مِٹا یا مِٹا مِٹا کے بنا
ہم اپنے آپ میں ٹیڑھی لکیر ہیں جانی

فرشتے حجرے پہ دستک کبھی نہیں دیتے
انہیں خبر ہے کہ ہم گوشہ گیر ہیں جانی

یہ لوگ لقمۂ نانِ جویں کو کیا جانیں
یہ لوگ خوگرِ آبِ شعیر ہیں جانی

یہ رہ گزارِ سخن ہے، قدم سنبھال کے رکھ
یہاں انیسؔ ہیں، غالبؔ ہیں، میرؔ ہیں جانی

یہ فیس بک ہے، یہاں سب عظیم شاعر ہیں
یہ مصحفی ہیں، وہ مرزا دبیر ہیں جانی.

دراز ہوتے نہیں ہیں ہر ایک در پہ یہ ہاتھ
ہم ایک خاص گلی کے فقیر ہیں جانی

فقیر عارف امام