یہ عہد وہ ہے کہ دانشوران عہد پہ بھی منافقت کی شبیہ…
یہ عہد وہ ہے کہ دانشوران عہد پہ بھی
منافقت کی شبیہوں کا خوف طاری ہے
نماز خوف کے دن ہیں کہ ان دنوں
قلندروں پہ فقیہوں کا خوف طاری ہے
.
یہ ہے وہ تیرہ دلان قلمرو تاریخ
جو روشنائی دانش کا خون کرتے رہے
یہی تو ہے جو حکیموں کی حکمتوں کے خلاف
ہر اک دور میں حاکم کے کان بھرتے رہے
.
ہیں ظلمتوں کے مربی طبیعتیں ان کی
کبھی یہ روشنی طبع کو نہیں مانے
ہے روشنی کا انھیں ایک ہی نظارہ پسند
کہ جشن فتح منے اور جلے کتب خانے
.
دیا ہے کام انھیں شب کے سر پرستوں نے
سپیدہ سحری کو سیاہ کرنے کا
ملا ہے عہدہ کلیساء غرب سے ان کو
شعور مشرق نو کو تباہ کرنے کا
.
گزشتہ عہد گزرنے میں ہی نہیں آتا
یہ حادثہ بہی لکھو معجزوں کے خزانے میں
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں
.
جون ایلیا