یہ شرک ہے تصّورِ حسن وجمال میں
ہم کیوں ہیں تم اگر ہو ہمارے خیال میں
جب سے مرا خیال تری جلوہ گاہ ہے
آتا نہیں ہوں آپ بھی اپنے خیال میں
اٹھّا ترا حجاب نہ میرے اٹھے بغیر
میں آپ کھوگیا ترے ذوقِ وصال میں
بیداریِ حیات تھی ایک خوابِ بیخودی
نیند آگئی مجھے تری بزمِ جمال میں
اب ہر ادائے عشق میں اندازِ حسن ہے
اب میں ہی میں ہوں آپ کی بزمِ جمال میں
چھائے ہوئے ہیں حسن کے جلوے جہان پر
تم ہو خیال میں ، کہ نہیں کچھ خیال میں
ہاں اے خدا ئے حسن دعائے جنوں قبول
میں تجھ سے مانگتاہوں تجھی کو سوال میں
حد ہوگئی فریبِ تصور کی اے ’’ ذہین ‘“
میں خود کو پیش کرتا ہوں اس کی مثال میں
حضرت بابا ذہین شاہ تاجی
’’ آیاتِ جمال ‘‘ (ص 315)
……
دل جا رہا ہے ہاتھ سے، ہاتھ آ رہا ہے کیا؟
سمجھا ہے دل نے کیا مجھے، سمجھا رہا ہے کیا؟
حد نظر سے دور نظر آرہا ہے کیا؟
دل تجھ سے بے حجاب ہؤا جا رہا ہے کیا؟
تھا شرط جس کی یاد میں ہر شے کو بھولنا
ہر شے کی یاد سے وہی یاد آرہا ہے کیا؟
میں نے ذہین جس پہ لٹائی تھی زندگی
وہ میری زندگی ہی بنا جا رہا ہے کیا؟
….
خاک سے لالہ و گل سنبل و ریحاں نکلے
تم بھی پردے سے نکل آؤ کہ ارماں نکلے
شیخ آنے کو میخانے میں مسلماں آیا
کاش میخانے سے نکلے تو مسلماں نکلے
بند آنکھیں کیئے ہم منتظرِ جلوہ رہے
جب کھلی آنکھ تو خود جلوئہ جاناں نکلے
کیا کوئی بزمِ حسیں زیرِ زمیں اور بھی ہے؟
پھول کیوں چاک جگر چاک گریبان نکلے
رنگ و بو قافلہ در قافلہ آئے تھے ذہین
چند اڑتے ہوئے سائے تھے گریزاں نکلے

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔