یہ تیرے ذکر کی عطا ذکرِ رشید ہے یہاں
سب کو میں یاد رہ گیا صدقے تیری یاد کے
…….
علّامہ رشیدؔ ترابی کا یومِ ولادت
09؍جولائی 1908
علامہ رشید ترابی کا اصل نام رضا حسین تھا۔ وہ حیدرآباد دکن میں 09؍جولائی 1908ء کو پیدا ہوئے۔
علامہ رشیدؔ ترابی، 18؍دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔
یہ تیرے ذکر کی عطا ذکرِ رشید ہے یہاں
سب کو میں یاد رہ گیا صدقے تیری یاد کے
…….
منتخب کلام
..
ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر
ویرانہ جو ہوتا کوئی گلشن کے برابر
کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت
سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر
میں دام پہ گرتا نہیں اے ذوقِ اسیری
ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر
میں بھول نہ جاؤں کہیں انجامِ تمنا
بجلی بھی چمکتی رہی خرمن کے برابر
کیا لطف اندھیرے کا ، اجالے میں تو آؤ
پھر داغ نظر آئیں گے دامن کے برابر
اتنی تو محبت ہو کہ جتنی ہے عداوت
میزان میں ہر دوست ہو دشمن کے برابر
لازم ہے اندھیرے کا اجالا وہ کہیں ہو
تاریک ہے اک رخ مہِ روشن کے برابر
بس طور جلا اور ادھر غش ہوئے موسٰیؑ
لوگ اور بھی تھے وادیِ ایمن کے برابر
اب جائے جہاں قافلۂ دہر ترابی
رہبر نظر آتا رہے رہزن کے برابر
…….
ہوا ہوس کی چلی نفس مشتعل نہ ہوا
جسے یہ بات میسر ہوئی خجل نہ ہوا
گزر چلا مَن و تُو سے فضائے ہُو کا حریف
بشر وہی جو گرفتارِ آب و گِل نہ ہوا
یہ اور بات ہے ظالم کی نیند اُڑ جائے
ارودتاََ مرا نالہ کبھی مُخل نہ ہوا
شکونِ فکر ، سکونِ نظر ، سکونِ حیات
خمیرِ زیست ان اجزا پہ مشتمل نہ ہوا
جو زخم دل پہ لگے ، مٹ گئے مگر غمِ دوست
مری حیات ہے یہ زخم ، مُندمل نہ ہوا
بہار میں بھی نہ تھا ناز دل کی قوت پر
خزاں کے دور میں بھی قلب مضمحل نہ ہوا
سکونِ دل نہ ملا دولتیں مہیا کیں
بہت تھے اہلِ دول ایک اہلِ دل نہ ہوا
اثر پذیر وہ قصہ ہے جس میں درد بھی ہو
بغیرِ درد کوئی کیف منتقل نہ ہوا
ضدیں تمام زمانے کی اک جگہ کر دیں
مذاق ہو گیا ہستی کا میرا دل نہ ہوا
خطایہ تھی کہ جھنجھوڑا ہے خود پرستوں کو
رشیدؔ ایسی خطاؤں پہ منفعل نہ ہوا
….. ……….
