یوں وفا کے سارے نبھاؤ غم کہ فریب میں بھی یقین ہو …
یوں وفا کے سارے نبھاؤ غم کہ فریب میں بھی یقین ہو
کوئی بات ایسی کہو صنم کہ فریب میں بھی یقین ہو
یہ دیار شیشہ فروش ہے یہاں آئینوں کی بساط کیا
یہاں اس طرح سے رکھو قدم کہ فریب میں بھی یقین ہو
مری چاہتوں میں غرور ہو دلِ ناتواں میں سرور ہو
تمہیں اب کے کھانا ہے وہ قسم کہ فریب میں بھی یقین ہو
…
