یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ
اے دوست! کسی روز نہ جانے کے لیے آ
ہر چند نہیں شوق کو یارائے تماشا
خود کو نہ سہی مجھ کو دکھانے کے لیے آ
یہ عمر، یہ برسات، یہ بھیگی ہوئی راتیں
اِن راتوں کو افسانہ بنانے کے لیے آ
جیسے تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی بہانے سے نہ جانے کے لیے آ
مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت
چپکے سے کسی روز جَتانے کے لیے آ
تقدیر بھی مجبور ہے ، تدبیر بھی مجبور
ان کہنہ عقیدہ کو مٹانے کے لیے آ
عارض پہ شفق ، دامنِ مژگاں میں ستارے
یوں عشق کی توقیر بڑھانے کے لیے آ
طالب کو یہ کیا علم، کرم ہے کہ ستم ہے
جانے کے لیے رُوٹھ ، منانے کے لیے آ
(طالب باغپتی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔