یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ اے دوست! کسی …


یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ
اے دوست! کسی روز نہ جانے کے لیے آ

ہر چند نہیں شوق کو یارائے تماشا
خود کو نہ سہی مجھ کو دکھانے کے لیے آ

یہ عمر، یہ برسات، یہ بھیگی ہوئی راتیں
اِن راتوں کو افسانہ بنانے کے لیے آ

جیسے تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
ایسے ہی بہانے سے نہ جانے کے لیے آ

مانا کہ محبت کا چھپانا ہے محبت
چپکے سے کسی روز جَتانے کے لیے آ

تقدیر بھی مجبور ہے ، تدبیر بھی مجبور
ان کہنہ عقیدہ کو مٹانے کے لیے آ

عارض پہ شفق ، دامنِ مژگاں میں ستارے
یوں عشق کی توقیر بڑھانے کے لیے آ

طالب کو یہ کیا علم، کرم ہے کہ ستم ہے
جانے کے لیے رُوٹھ ، منانے کے لیے آ

(طالب باغپتی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


Comments

11 responses to “یوں بھی ترا احسان ہے آنے کے لیے آ اے دوست! کسی …”

  1. واہ! 3، 4، 5 تو لاجواب ہیں۔ مقطع بھی خوب کہا۔

  2. واہ شاندار شاندار سپرب????????????

  3. جیسے تجھے آتے ہیں نہ آنے کے بہانے
    ایسے ہی بہانے سے نہ جانے کے لیے آ

  4. واہ واہ کیا کہنا اعلٰی پائے کے شاعر تھے ۔ احمد فراز کو بھی داد کہ باغپتی کا نام تک نہیں لیا ۔

  5. کیا یہ با حیات ہیں… ؟؟
    اگر نہیں.. تو ان کی تاریخ وفات سےضرور مطلع کریں

جواب دیں