ہندی نظم: تم نے ججب کہا، تم بچی ہو!
شاعرہ: روپم مشر
مترجم: آفتاب احمد، کولمبیا یونیورسٹی
***
تم نے جب جب کہا، تم بچی ہو! میں سچ میں بچّی بن گئی!
یاد ہی نہیں رہا کہ میرا کوئی جسم بھی ہے جو اتنا نشیلہ ہے کہ تمھیں بے چین کر رہا ہے!
پر سچ کہتی ہوں وہ اتنا نرم تخاطب تھا کہ
میں اسے سُن کر گلہری بن کر تمھارے بدن پر اُچکنے لگی تھی!
تمھارے ماتھے کو پہاڑ بنا لیا، سینے کو دریا
اور دونوں آنکھوں کو چاند اور سورج!
تمھیں یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ تمھارے وجود میں
میں نے ایک نئی دنیا بسا لی تھی
ایک دن تم نے کہا تھا کتنa معصوم ہے تمھارا مَس
تم نہیں جانتے اس وقت میری ہتھیلیاں بہت نازک ہو گئی تھیں
جس میں میں تمھاری آنکھیں بند کر کے چُھپ جاتی
پھر ایک دن تم نے کَس کر پکڑ لیا میرا ہاتھ
جس سے پڑ گئے ہیں کلائی پر سیاہ گھیرے!
خیر اب مجھے نہیں یاد رہتا میں کبھی بچّی بن جاتی تھی!
اور تمھارے ساتھ پہروں کِھلکِھلاتی چُھپم چُھپائی کھیلتی
مُٹّھی بھر بھر کے چاندنی تمھارے اوپر پھینکتی!
کیونکہ جس نے مجھے بچّی کہا تھا جب اسے ہی نہیں یاد رہا کہ میں بچی ہوں!
یادوں نے ہمیشہ مجھے دیوالیہ رکھا
مجھے یاد ہی نہیں رہا کہ بچّی کا بھی بدن ہوتا ہے
اور بدنوں کی بنیادی بھوک ہوتی ہے
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2814542375442944

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔