ہندو خدائے برتر کو مانتے ہیں جس کو وه ایشور کہتے ہ…
ہندو خدائے برتر کو مانتے ہیں جس کو وه ایشور کہتے ہیں. مگر ہندؤں کے یہاں ایشور کا کوئی مندر نہیں ہوتا. ان کے یہاں جتنے مندر ہیں سب دیوتاؤں کے ہیں. گویا ہندو اس مذہب سے واقف نہیں جس میں ” خدا ” کی پرستش کی جائے. وه صرف اس مذہب کو جانتے ہیں جس میں دیوی دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے.
یہی موجوده زمانہ میں تمام مذاہب کا حال ہے. یہودی صرف اس دین کو جانتے ہیں جس میں ایک خاص نسل سے تعلق رکھنے والوں کے لئے نجات ہے- عمل کی بنیاد پر نجات ملنے والے دین سے وه واقف نہیں- عیسائی صرف اس دین سے واقف ہیں جس میں ” پادری ” کی معرفت کوئی شخص خدا تک پہنچتا ہے- وه براه راست خدا تک پہنچنے والے دین سے واقف نہیں-
مسلمان بھی اس معاملہ میں دوسروں سے مختلف نہیں- اسلام اگرچہ خالص اور بے آمیز دین ہے، مگر موجوده زمانہ کے مسلمان آج جس دین پر ہیں وه اس سے مختلف دین ہے جو محمد عربی پر اتارا گیا تھا.
آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وه "تقوی” والے دین سے واقف نہیں- مسلمان آج جس دین سے واقف ہیں وه ان کی تاریخی روایات، ان کے بزرگوں کے قصے کہانیاں، ان کے قومی جذبات ہیں. انھیں چیزوں کے تحت ان کا ایک دین بن گیا ہے اور اسی خود ساختہ دین پر وه قائم ہیں.
یہی وجہ ہے کہ موجوده زمانہ کے مسلمانوں سے جب خدا کی بڑائی بیان کی جائے تو وه انھیں زیاده اپیل نہیں کرتی، کیونکہ وه اپنے قومی ہیروں کی بڑائی میں جی رہے ہیں. ان سے آخرت کی پکڑ کی بات کیجئے تو ان کی نفسیات میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوتی. کیونکہ اس دین سے وه آشنا ہی نہیں.
(مولانا وحیدالدین خان)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی