ہم زاد ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ رابرٹ لوئی سٹی…
ہم زاد
ڈاکٹر جیکل اور مسٹر ہائیڈ
رابرٹ لوئی سٹیونسن
Strange Case of Dr Jekyll and Mr Hyde (1886)
رابرٹ لوئی سٹیونسن کا مشہور ترین ناول 1886 میں شائع ہوا۔ اس ناول کا شمار سائنس فکشن کے ابتدائی شاہکاروں میں ہوتا ہے۔اس ناول میں پیش کیا گیا" دہری شخصیت" کا نظریہ بہت مقبول ہوا اور وکٹورین عہد کے پُر ہجوم لندن میں پیش آنے والے واقعات ناولٹ کو بے حد دل چسپ اور سنسنی آمیز بناڈالتے ہیں۔ کہانی دراصل ڈاکٹر جیکل کے سائنسی تجربات کے گرد گھومتی ہے جس میں وہ ایسی کیمیاوی ادویات کے تجربے کرتا ہے جو اس کی شخصیت کے منفی پہلوئوں کو مکمل طور پر ختم کرسکے مگر اس کیمیاوی مادے سے اس کے باطن میں چھپا اس کا ہم زادمسٹر ہائیڈ بر آمد ہو جاتا ہے جو سیاہ فطرت اور بے رحم طبیعت کا حامل ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ مسٹر ہائیڈ ڈاکٹر جیکل کی شخصیت پر مکمل طور پر قابض ہوجاتا ہے اور اس مرحلے پر اسے کسی کیمیاوی دوا کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ ایک ہی شخص میں دو مختلف فطرتوں کی موجودگی نے اس ناول کو ایک شاہکار کا درجہ دلوایا اور آج بھی اس مقبولیت میں کمی نہیں آئی۔
ناول کے مرکزی کردار کے متعلق دو نظریات موجود ہیں۔پہلے نظریے کے مطابق رابرٹ لوئی سٹیونسن کو اس ناول کا خیال اپنے فرانسیسی دوست Eugene Chantrelle کی کہانی منظر عام پر آنے کے بعد آیا۔اس کا دوست ایک عام سا سکول ٹیچر تھا مگر اچانک ایک دن اس نے اپنی بیوی کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہ سن 1878 کا واقعہ ہے۔ قتل کے بعد اس نے اپنے دوست سے ملاقات بھی کی مگر اس کے دوست کو کچھ یاد نہیں کہ اس نے کسی کا قتل کیا ہے ۔ ایک بات تو طے ہے کہ اس نے ڈاکٹر جیکل کا کردار اپنے ایک دوسرے دوست Reverend Walter Jekyllکے نام سے مستعار لیاہے۔ دوسرے نظریے کے مطابق اس ناولٹ کاپلاٹ رابرٹ سٹیونسن کو خواب میں ملا۔ تاہم خواب ہو یا حقیقت ، ناول انتہائی دل چسپ اور سنسنی خیز ہے۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3007745819455931