منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

ہم اپنے پیاروں کو بعد از مرگ اپنے اندر زندہ کیسے ر…

ہم اپنے پیاروں کو بعد از مرگ اپنے اندر زندہ کیسے رکھیں؟

اپنے کسی بہت عزیز انسان کی موت پر ہمارا اولین اور عین قدرتی ردعمل شدید دکھ اور گریہ ہی ہوتے ہیں۔ درد اور گریہ ہی دکھ اور غم کے ابتدائی دنوں میں ہمارے مددگار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں ہمیں انتقال کر جانے والوں کے ساتھ جوڑ دینے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے۔ قدیم روایات کی سطح پر یہ کام مُردوں سے متعلقہ رسوم کے ذریعے کیا جاتا ہے: مرنے والوں کے نام پر قربانی اور نذرانوں، قبروں کی آرائش، یادگاروں کی تعمیر اور پھولوں کی مدد سے۔ اپنے مردہ عزیزوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لیے جدید دور کے انسانوں کے طور پر متوفیان کو نذرانہ و عقیدت پیش کرنے کا عمل اپنی روح میں مکمل کرنا لازمی ہوتا ہے؛ اپنی سوچوں، بہت واضح اور شفاف یادوں اور اپنی ذات میں ایسے کسی بھی پیارے انسان کے غیر طبعی وجود کی دوبارہ تعمیر کے ذریعے۔ اگر ہم یہ کر لیں تو ہمارے پیاروں میں سے کوئی بھی مردہ ہونے کے باوجود پھر سے ہمارے ساتھ چلنے لگتا ہے۔ ہم اس کا عکس بچا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور یہی بات ہمیں اپنے درد کو ثمرآور بنا لینے میں مدد دیتی ہے۔

(ہَیرمان ہَیسے کی کتابوں اور خطوط سے لیے گئے اقتباسات پر مشتمل، 1984 میں شائع شدہ مجموعے “ہیرمان ہیسے: لمحوں کے سبق” سے اقتباس؛ جرمن سے اردو ترجمہ: مقبول ملک)

Schmerz und Klage sind unsre erste, natürliche Antwort auf den Verlust eines geliebten Menschen. Sie helfen uns durch die erste Trauer und Not, sie genügen aber nicht, um uns mit dem Toten zu verbinden. Das tut auf primitiver Stufe der Totenkult: Opfer, Grabschmuck, Denkmäler, Blumen. Auf unsrer Stufe aber muß das Totenopfer in unsrer eigenen Seele vollzogen werden, durch Gedenken, durch genaueste Erinnerung, durch Wiederaufbau des geliebten Wesens in unsrem Innern. Vermögen wir dies, dann geht der Tote weiter neben uns, sein Bild ist gerettet und hilft uns den Schmerz fruchtbar zu machen.

(Hermann Hesse. Lektüre für Minuten. 1984, S. 276)


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2993590330871480