ہر ایک بات پہ کہتے ہو تُم کہ تُو کیا ہے تمہی…


ہر ایک بات پہ کہتے ہو تُم کہ تُو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گُفتَگُو کیا ہے

نہ شُعلَہ میں یہ کرشمہ، نہ برق میں یہ ادا
کوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خُو کیا ہے

یہ رَشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سُخن تُم سے
وگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدُو کیا ہے

چِپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہمارے جیب کو اب حاجتِ رفُو کیا ہے

جلا ہے جسم جہاں، دِل بھی جل گیا ہو گا
کریدتے ہو جو اب راکھ، جُستَجُو کیا ہے

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہُو کیا ہے

وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادہِ گُلفامِ مُشکِ بُو کیا ہے

پیُوں شراب اگر خَم بھی دیکھ لُوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبُو کیا ہے

رہی نہ طاقتِ گُفتار اور اگر ہو بھی
تو کِس اُمید پہ کہیے کہ آرزُو کیا ہے

ہوا ہے شہہ کا مصاحب پِھرے ہے اِتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرُو کیا ہے

مرزا اسد اللہ غالبؔ

المرسل: فیصل خورشید



Comments

25 responses to “ہر ایک بات پہ کہتے ہو تُم کہ تُو کیا ہے تمہی…”

  1. یہ غالب کی فی البدیہہ غزل ہے جو دربار میں منعقدہ مشاعرے میں پڑھی تھی

  2. Hain aur bhi dunya main sukhenver bohet achay
    Kehtay hain k ghalib ka hay andaze bian aur

  3. کہتے ہیں کہ غالب کا ھے انداز بیاں اور

  4. وااااااہ غالب تیرے کیا ہی کہنے ہیں

  5. Ghalib ko Urdu zuban ke hawale se pakistan ke Quoi shaayr ka darja milna chahiey.

  6. وااااااہ ،غالب سب پر غالب ہے

  7. کمال است ????????❤❤

    جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگا
    کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے

    پسندیدہ ترین ❤❤❤

جواب دیں