ھر دَرد پہن لینا ، ھر خُواب میں کھو جانا کیا اَپنی طبیعت ھے ، ھَر شَخص کا ھو جان…
ھر دَرد پہن لینا ، ھر خُواب میں کھو جانا
کیا اَپنی طبیعت ھے ، ھَر شَخص کا ھو جانا۔
اِک شہر بَسا لینا ، بِچھڑے ھُوئے لوگوں کا
پِھر شَب کے جَزیرے میں ، دّل تھام کے سو جانا۔
موضُوعِ سُخن کُچھ ھو ، تا دیر اُسے تَکنا
ھر لفظ پہ رُک جانا ، ھَر بات پہ کھو جانا۔
آنا تو بِکھر جانا ، سانسوں میں مَہک بن کر
جانا تو کلیجے میں ، کانٹے سے چبھو جانا
جاتے ھُوئے چُپ رَھنا ، اُن بولتی آنکھوں کا
خاموش تَکلم سے ، پَلکوں کو بِھگو جانا۔
لفظوں میں اُتر آنا ، اُن پُھول سے ھونٹوں کا
اِک لَمس کی خوشبُو کا ، پوروں میں سَمو جانا۔
ھَر شام عَزائم کے ، کُچھ مَحل بنا لینا
ھَر صُبح اِرادوں کی ٫ دَھلیز پہ سو جانا۔
اَعتبار ساجِد
Source