گنگناتی ہیں کانوں میں تنہائیاں، واپسی کا سفر اتنا آساں نہیں
دل دکھائیں گی کل بزم آرائیاں ، واپسی کا سفر اتنا آساں نہیں
اس کنارےدیاجل رہا ھےکوئی ایک پل بھی ھے اور ایک کشتی بھی ھے
متفق پھر بھی ہیں ساری دانائیاں، واپسی کا سفر اتنا آساں نہیں
رخت جاں باندھنا،ساتھ فرمائشیں،عرصئہ مختصر، تشنہ لب خواہشیں
منتشر ھو رہی ہیں توانائیاں، واپسی کا سفر اتنا آساں نہیں
گنگناتی ہیں کانوں میں تنہائیاں، واپسی کا سفر اتنا آساں نہیں
دل دکھائیں گی کل بزم آرائیاں ، واپسی کا سفر اتنا آساں نہیں
وہ تقدس کی بے داغ…
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔