گمان ہی گمان ہے قیاس ہی قیاس ہے
یہ دور وہ ہے جس میں ہر برہنگی لباس ہے
کوئی نظر اٹھا کے دیکھتا نہیں کسی طرف
ہر ایک شخص اپنی جستجو میں بد حواس ہے
یہ اقتدار و اختیار سیم و زر کی یہ بہار
کبھی کسی کے پاس ہے کبھی کسی کے پاس ہے
ورق ورق بلندیوں کو چھو رہی ہیں پستیاں
یہ زندگی صحیفۂ عمل کا اقتباس ہے
کوئی حیات آشنا ملے تو گفتگو کریں
کوئی خودی شناس ہے کوئی خدا شناس ہے
(حیات وارثی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی