گمان تک میں نہ تھا محوِ یاس کر دے گا وہ یوں م…
گمان تک میں نہ تھا محوِ یاس کر دے گا
وہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا
کرم کرے گا مرے حال پر مگر پہلے
شرارتاً وہ مجھے غم شناس کر دے گا
شگفتگئ چمن پر بہت غرور نہ کر
خزاں کا دور تجھے بد حواس کر دے گا
گیا وہ دور کہ جب خار بھی مہکتے تھے…
