کیفیؔ اعظمی
اِتنا تو زندگی میں کِسی کی خلل پڑے
ہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کَل پڑے
جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نِکل پڑے
اِک تُم کہ تُم کو فکرِ نشیب و فراز ہے
اِک ہم کہ چل پڑے تو بہر حال چل پڑے
ساقی سبھی کو ہے غمِ تشنہ لبی مگر
مے ہے اُسی کی نام پہ جس کے اُبل پڑے
مُدت کے بعد اُس نے جو کی لُطف کی نگاہ
جی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نَِکل پڑے
المرسل: فیصل خورشید

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔