کہیں طوق و سلاسل ہیں کہیں زہر ہلاہل ہے ہمیں ہر …


کہیں طوق و سلاسل ہیں کہیں زہر ہلاہل ہے
ہمیں ہر آزمائش میں الٰہی سرخ رُو رکھنا
…
آتش بہاولپوری کا یومِ وفات
27 October 1993
منتخب کلام
….
اپنے چہرے سے جو زلفوں کو ہٹایا اس نے
دیکھ لی شام نے تابندہ سحر کی صورت
….
ستم کو ان کا کرم کہیں ہم جفا کو مہر و وفا کہیں ہم
زمانہ اس بات پر بضد ہے کہ ناروا کو روا کہیں ہم
کچھ ایسا سودا ہے سب کے سر میں مزاج بگڑے ہوئے ہیں سب کے
کوئی بھی سنتا نہیں کسی کی کہیں کسی سے تو کیا کہیں ہم
یہ ساری باتیں ہیں درحقیقت ہمارے اخلاق کے منافی
سنیں برائی نہ ہم کسی کی نہ خود کسی کو برا کہیں ہم
نہ جانے ہم سے ہے کیا توقع؟ نہیں کسی طرح جان بخشی
زمانہ اس پہ بھی معترض ہے اگر خدا کو خدا کہیں ہم
ہماری آہیں بھی بے اثر ہیں ہمارے نالے بھی نارسا ہیں
وہ درد جس کا نہ ہو مداوا اسے نہ کیوں لا دوا کہیں ہم
نہ دن کو ہے کچھ سکوں میسر نہ شب کو آتی ہے نیند ہم کو
یہی محبت کی ابتدا ہے تو پھر کسے انتہا کہیں ہم
یہی تقاضا ہے مصلحت کا اسی میں ہے عافیت بھی آتشؔ
کسی سے دل کو جو رنج پہنچے اسے خدا کی رضا کہیں ہم
……………..
خموش بیٹھے ہو کیوں ساز بے صدا کی طرح
کوئی پیام تو دو رمز آشنا کی طرح
کہیں تمہاری روش خار و گل پہ بار نہ ہو
ریاض دہر سے گزرے چلو صبا کی طرح
نیاز و عجز ہی معراج آدمیت ہیں
بڑھاؤ دست سخاوت بھی التجا کی طرح
جو چاہتے ہو بدلنا مزاج طوفاں کو
تو ناخدا پہ بھروسا کرو خدا کی طرح
مجھے ہمیشہ رہ زیست کے دوراہوں پر
اک اجنبی ہے جو ملتا ہے آشنا کی طرح
تمام عمر رہا سابقہ یزیدوں سے
مرے لیے تو یہ دنیا ہے کربلا کی طرح
امید ان سے وفا کی تو خیر کیا کیجے
جفا بھی کرتے نہیں وہ کبھی جفا کی طرح
یہ دہر بھی تو ہے مے خانۂ الست نما
رہو یہاں بھی کسی رند پارسا کی طرح
زباں پہ شکوۂ بے مہریٔ خدا کیوں ہے؟
دعا تو مانگیے آتشؔ کبھی دعا کی طرح
…..
مجھے ان سے محبت ہو گئی ہے
میری بھی کوئی قیمت ہو گئی ہے
وہ جب سے ملتفت مجھ سے ہوئے ہیں
یہ دنیا خوب صورت ہو گئی ہے
چڑھایا جا رہا ہوں دار پر میں
بیاں مجھ سے حقیقت ہو گئی ہے
رواں دریا ہیں انسانی لہو کے
مگر پانی کی قلت ہو گئی ہے
مجھے بھی اک ستم گر کے کرم سے
ستم سہنے کی عادت ہو گئی ہے
حقیقت یہ ہے ہم کیا اٹھ گئے ہیں
وفا دنیا سے رخصت ہو گئی ہے
غم جاناں میں جب سے مبتلا ہوں
غم دوراں سے فرصت ہو گئی ہے
اب ان کی کفر سامانی بھی آتشؔ
دل و جاں پر عبارت ہو گئی ہے
…..
حرف شکوہ نہ لب پہ لاؤ تم
زخم کھا کر بھی مسکراؤ تم
اپنے حق کے لیے لڑو بے شک
دوسروں کا نہ حق دباؤ تم
سب اسے دل لگی سمجھتے ہیں
اب کسی سے نہ دل لگاؤ تم
مصلحت کا یہی تقاضا ہے
وہ نہ مانیں تو مان جاؤ تم
اپنا سایہ بھی اب نہیں اپنا
اپنے سائے سے خوف کھاؤ تم
موت منڈلا رہی ہے شہروں پر
جا کے صحرا میں گھر بناؤ تم
دوستوں کو تو خوب دیکھ چکے
دشمنوں کو بھی آزماؤ تم
راستی پہ مدار ہو جس کا
اب نہ وہ بات لب پہ لاؤ تم
جو بھلا مانگتے تھے سر بت کا
ان بزرگوں کو پھر بلاؤ تم
……………………………..