کبھی مَنظر تھا٫ اَب ناظِر ہوا ہوں
خُود اپنے آپ پر٫ ظاہر ہوا ہوں
مُجھے جَنّت کے ٫قصّوں سے نہ بَہلا
بَڑی مُشکل سے تو ٫ کافر ہوا ہوں
نہیں کھاتا ٫ فَریبِ دِین و دُنیا
مُحبت میں ٫ بڑا شاطِر ہوا ہوں
یہ فہرستِ تباہی ٫ دیکھ لے تُو
کہ مَیں کیا کیا تیری خاطِر ہوا ہوں
بہت مَجبُور ہو کر ٫ اَپنے دل سے
تیری مَحفِل میں٫ پِھر حاضِر ہوا ہوں
مُسلسَل آگ میں جَل کر ٫ کِسی کی
نِہایت مُستَنِد ٫ شاعر ہوا ہوں
(اَشفاق حُسین)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی