حضور آئیں تو سب زخم مندمل ہو جائیں یہ پھول کب سے …


حضور آئیں تو سب زخم مندمل ہو جائیں
یہ پھول کب سے تبسم کا بار اٹھائے ہیں
——
شاعر اور نعت خواں اعجاز رحمانی کا یوم پیدائش
(پیدائش: 12 فروری 1936ء – وفات:26 اکتوبر 2019ء)
——
منتخب کلام
——
میں جتنا بھی لکھتا ہوں شانِ نبی میں
یہ محسوس ہوتا ہے کم لکھ رہا ہوں
——
شکریہ مالکِ کتاب و قلم
تو نے اعجاز کو زباں دے دی
——
مصطفیٰ کا جواب ہے کوئی ؟
کیا رسالت مآب ہے کوئی ؟
——
اُسوۂ مصطفیٰ کی یہ تفسیر ہے
روشنی ، روشنی ، روشنی ، روشنی
——
مجھے یہ فخر ہے اعجازؔ حاصل
کہ مدّاحِ شہِ ابرار ہوں میں
——
کسی اور کے خدا سے نہ غرض نہ واسطہ ہے
ہے وہی خدا ہمارا جو حضور کا خدا ہے
یہ جو بزمِ آب و گِل ہے یہ تمام کربلا ہے
جہاں امن و آشتی ہے وہ دیارِ مصطفیٰ ہے
یہ جو آدمی کا رتبہ ہے بلند قدسیوں سے
کسی اور کا نہیں ہے یہ کرم حضور کا ہے
مہ و آفتاب کیا ہیں تری گردِ رہگور ہیں
وہی راستہ ہے روشن جہاں تیرا نقش پا ہے
جسے مصطفیٰ نے روشن کی ظلمتِ حرا میں
سرِ بزمِ علم ودانش وہ چراغ جل رہا ہے
کوئی اس کی عظمتوں کو نہ سراغ پا سکے گا
وہ نعال پا ہے اس کی جسے عرش چومتا ہے
کسی اور راستے سے نہ ملے گی ہم کو منزل
جو حضور نے بتایا وہی ٹھیک راستہ ہے
مری بات کی گواہی ہے اذان اور کلمہ
جہاں ذکر ہے خدا کا وہیں ذکرِ مصطفیٰ ہے
مجھے ناز بخت پر ہے مجھے فخر ہے یہ اعجاز
کہ مرا نبی وہی ہے جو امام الانبیاء ہے
——
ہر صاحبِ یقیں کا ایمان بن گئے ہیں
قولِ نبی دلیل قرآن بن گئے ہیں
تعلیمِ مصطفےٰ نے ایسا شعور بخشا
جو آدمی نہیں تھے انسان بن گئے ہیں
آدم سے تابہ عیسیٰ، عیسیٰ سے مصطفیٰ تک
اک داستان کے کتنے عنوان بن گئے ہیں
اسلام چاہتا ہے اس واسطے اُخوّت
جب مل گئے ہیں قطرے طوفان بن گئے ہیں
اخلاقِ مصطفیٰ ہے کردار کی کسوٹی
اقوال مصطفےٰ کے میزان بن گئے ہیں
اسلام سے ہٹے ہیں جس دور میں بھی انساں
فرعون بن گئے ہیں ہامان بن گئے ہیں
کلمہ، نماز، روزہ، حج و زکوۃ یارو
دینِ محمدی کے ارکان بن گئے ہیں
جن کو ہوئی میسر دربار میں حضوری
وہ لوگ مصطفےٰ کے مہمان بن گئے ہیں
کیا حشر اپنا ہوگا اعجاز روزِ محشر
ہر بات جان کر ہم انجان بن گئے ہیں
——
ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگ
سوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگ
کافی ہے جن کے واسطے چھوٹا سا اک مکاں
پوچھے کوئی تو شیش محل چاہتے ہیں لوگ
سائے کی مانگتے ہیں ردا آفتاب سے
پتھر سے آئنے کا بدل چاہتے ہیں لوگ
کب تک کسی کی زلف پریشاں کا تذکرہ
کچھ اپنی الجھنوں کا بھی حل چاہتے ہیں لوگ
بار غم حیات سے شانے ہوئے ہیں شل
اکتا کے زندگی سے اجل چاہتے ہیں لوگ
رکھتے نہیں نگاہ تقاضوں پہ وقت کے
تالاب کے بغیر کنول چاہتے ہیں لوگ
جس کو بھی دیکھیے ہے وہی دشمن سکوں
کیا دور ہے کہ جنگ و جدل چاہتے ہیں لوگ
درکار ہے نجات غم روزگار سے
مریخ چاہتے ہیں نہ زحل چاہتے ہیں لوگ
اعجازؔ اپنے عہد کا میں ترجمان ہوں
میں جانتا ہوں جیسی غزل چاہتے ہیں لوگ
——
اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گا
سورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گا
فطرت کے تقاضے کبھی بدلے نہیں جاتے
خوشبو ہے اگر وہ تو بکھرنا ہی پڑے گا
پڑتی ہے تو پڑ جائے شکن اس کی جبیں پر
سچائی کا اظہار تو کرنا ہی پڑے گا
ہر شخص کو آئیں گے نظر رنگ سحر کے
خورشید کی کرنوں کو بکھرنا ہی پڑے گا
میں سوچ رہا ہوں یہ سر شہر نگاراں
یہ اس کی گلی ہے تو ٹھہرنا ہی پڑے گا
اب شانۂ تدبیر ہے ہاتھوں میں ہمارے
حالات کی زلفوں کو سنورنا ہی پڑے گا
اک عمر سے بے نور ہے یہ محفل ہستی
اعجازؔ کوئی رنگ تو بھرنا ہی پڑے گا
——
ہزار آرائشیں کیجے مگر اچھا نہیں لگتا
جودل وحشت بداماں ھو تو گھر اچھا نہیں لگتا
نمائش جسم کی بے پیرھن اچھی نہیں ھوتی
خزاں کے دور میں کوئ شجر اچھا نہیں لگتا
خوشی میں بھی نکل آتے ھیں آخر آنکھ سے آنسو
یہ بے موقع مذاقِ چشمِ تر اچھا نہیں لگتا
سوادِ قریہءِ جاں میں تغیّر بھی ضروری ھے
کوئی موسم ھو لیکن عمر بھر اچھا نہیں لگتا
بچھڑ کرساتھیوں سے زندگی بے کیف ھوتی ھے
اکیلا پر ھوا کے دوش پر اچھا نہیں لگتا
یہ آئینہ ھے سب کے منہ پہ سچی بات کہتا ھے
نگاھیں پھیر لو تم کو اگر اچھا نہیں لگتا
بھلا لگتا ھے جب پھول پھولوں میں رھے شامل
ستارہ آسماں سے ٹوٹ کر اچھا نہیں لگتا
بچاسکتاھےدامن کون فطرت کے تقاضوں سے
کوئی ساتھی نہ ھوجب تک سفر اچھا نہیں لگتا
وہ اپنے ھوں کہ بیگانے سبھی بیزار ھیں مجھ سے
سرِ محفل کوئی شوریدہ سر اچھا نہیں لگتا
حصارِ ذات سے اعجازؔ جو باھر نہیں آتے
انہیں کوئی بہ الفاظِ دِگر اچھا نہیں لگتا
——
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں
کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا
وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے
میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں
کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی
میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں
ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے
میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں
یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی
پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں
وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے
جہاں پہ گردشِ ایام چھوڑ آیا ہوں
مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ
کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں
…………………………..