دو روز قَبل مَیں نے ایک مُراسلے کے ذریعے یہ بَتایا…


دو روز قَبل مَیں نے ایک مُراسلے کے ذریعے یہ بَتایا تھا کہ "آوازِ سگان کم نکُنَد رِزقِ گدا را” والی ضَربُ‌المَثَل بَیت عُرفی شیرازی کی قَطعاً نہیں ہے، بلکہ عِصمَت بُخارائی کی ہے، اور اُس کا اصلی مَتن یہ ہے:

عِصمَت مکُن اندیشه ز گُفتارِ رقِیبان
کآوازِ سگان کم نکُنَد رِزقِ گدا را

مَیں نے کِسی دلِیل کے بَغَیر صِرف ایک ہوائی دعویٰ نہیں کِیا تھا، کہ عِلم کی دُنیا میں اُس کی ایک پَیسے جِتنی بھی حَیثِیَت نہیں ہوتی، بلکہ اربَش علی صاحِب کی اُس علّامانہ تحقِیق کا حوالہ بھی دِیا تھا جو اُنہوں نے اُس بَیت کے حقِیقی مالِک کا پَتا لگانے کے لیے نِہایَت تعَمُّق اور عرَق‌ریزی کے ساتھ انجام دی تھی اور جِس کے ذریعے سے مُجھ سمیت ہم سب کو یہ مَعلُوم ہُوا تھا کہ وہ بَیت در حقِیقَت عِصمَت بُخارائی کی ہے، نہ کہ عُرفی یا کِسی بھی دِیگَر شاعِر کی۔

مَیں نے مُراسلے کے تبصِروں میں اُس تحقِیق تک لے جانے والا رَبط بھی سب سے اُوپر چُپکا دِیا تھا تاکہ جِن جِن لوگوں تک وہ مُراسلہ پُہنچے وہ اُس تحقِیق کو بھی پڑھیں، اور دو مِصرعوں کی ایک چھوٹی سی بَیت کے لِیے اِتنی جاں‌فِشانی کے ساتھ دانِش‌مَندانہ تحقِیق کرنے والے اُس مُحَقِّق کے لیے اِحتِرام و سِتائِش کے اِحساسات مَحسُوس کریں اور اُس پر آفَرِین بھیجیں۔

افسوس کہ ساتھ کہہ رہا ہُوں کہ اِعتِراض کرنے والے اور اُس بَیت کے عُرفی ہی کے ہونے پر اِصرار کرنے والے تو درجَنوں میں تھے، لیکِن اُس تحقِیق پر فقَط ایک اُڑتی ہوئی نِگاہ ڈالنے والے بھی چَند ایک سے زیادہ نہ تھے۔

مُجھے مَعلُوم تھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اِعتِراض کا اِظہار کرے گی، اور مَیں اُس کا خوش‌دِلی کے ساتھ مُنتَظِر بھی تھا، کیونکہ مُعتَرِضوں کی تعداد کا بڑا ہونا میرے مُراسلے اور صَفحے کی رسائی ہی میں اِضافے کا باعِث بَنتا ہے اور لِہٰذا سُودمَند ثابِت ہوتا ہے۔

مَیں تو چاہَتا ہی یہی ہُوں کہ اِس صَفحے کے ذِریعے زبان و ادَبیات و تمَدُّنِ فارسی کا پَیغامِ جاں‌افزا دُنیائے اُردو کے ہر گوشہ و کَنار تک پُہنچے۔ لِہٰذا اگر کِسی جَنجال‌برانگیز یا مَورِدِ نِزاع مُراسلے کے ذریعے سے میری اُس خواہِش کے پُورے ہونے میں مدَد مِلتی ہو تو مُجھے مسئلہ نہیں ہے۔

تاہَم مُجھے یہ دیکھ کر سَخْت کوفْت ہوئی کہ اِعتِراض کرنے والوں میں سے کِسی نے بھی اربَش علی صاحِب کی اُس تحقِیقِ عمِیق پر نِگاہ دَوڑانے کی زحمَت نہیں کی جو ایسی بُرہانِ قاطِع ہے جِس کے بَعد اِنکار کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بَچتی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جِن لوگوں کی رائے یہ تھی کہ وہ بَیت واقِعاً عُرفی ہی کی ہے، اور مَیں نے عُرفی کے ساتھ اُس کی نِسبَت کا اِنکار، اور وہ بھی اِس قطعیّت کے ساتھ اِنکار کر کے، خطا کی ہے، تو وہ ایک بار جنابِ اربَش علی کی اُس تحقِیق کو ذرا سا پڑھ لیتے، اور اُس کے بَعد بھی اگر اُنہیں لَگتا کہ وہ تحقِیق غلَط ہے یا اُس میں نقائِص ہیں، اور اُس بَیت کی عُرفی کے ساتھ نِسبَت کا اِنکار غلَط ہے تو وہ اُس پر کوئی مُوَثَّق عِلمی دلِیل پیش کرتے اور اُس پر اِستِناد کر کے اپنی بات کا اِثبات کرتے۔

عِلمی دلِیل مثَلاً یہ ہو سَکتی تھی کہ وہ دیوانِ عُرفی کے کِسی قَلمی نُسخے میں اُس بَیت کی مَوجُودی دِکھا دیتے یا کِسی قدیم تذکِرہ‌نِگار کا حوالہ دے دیتے جِس نے اُس بَیت کو عُرفی کے نام کے ساتھ ثَبت کِیا ہو، یا کِسی مَجمُوعۂ اشعار کے مَخطُوطے میں سے وہ غزَل نِکال کر سامنے لے آتے جِس میں عُرفی نے اُس بَیت کو مَقطَعِ غزَل بَنایا ہُوا ہوتا، یا کم از کم یہی ثابِت کر دیتے کہ عُرفی نے عِصمَت کا ایک مِصرَع لے کر اُس پر اپنے مِصرَعے کی گِرہ لگائی تھی لِہٰذا اِس بَیت پر عُرفی کی بھی مالِکِیَّت ہے۔

لیکِن، مَعَ الأَسَف، ایسی کوئی دلیل نہیں دی گئی، بلکہ ویسی "دلیلیں” پیش کی گئیں جِنہیں کِسی عِلمی بَحث میں دلِیل کا نام نہیں دِیا جا سَکتا، بلکہ جِنہیں بےبُرہان و و بےسروپا ہوائی باتیں ہی کہا جا سَکتا ہے۔

مِثال کے طَور پر، زیادہ‌تر مُعتَرِضوں کی نہ ماننے کی دلیل کم و بیش یہی تھی کہ "إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ” یعنی ہم اب تک سب سے یہی سُنتے سُناتے آئے ہیں کہ یہ بَیت عُرفی کی ہے، اور "وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ” یعنی ہم بھی اِسی سُنی سُنائی پر چلیں گے۔

حالانکہ اگر یہ بَیت عُرفی سے غلَط مَنسُوب ہو گئی ہے اور اُس کی وہ غلَط نِسبَت کِسی غلَطُ‌العام کی طرح عوام‌النّاس میں مَشہُور ہو گئی ہے تو اِس سے یہ کَیسے ثابِت ہو جاتا ہے کہ وہ بَیت حقِیقَت میں بھی عُرفی کی ہے؟

لِکھاریوں سے غلَط مَنسُوب چِیزوں کی تو دُنیا میں بےشُمار مِثالیں مَوجُود ہیں۔ اور ایسی چِیزیں بھی بہ کَثرَت مَوجُود ہیں جِن کے بارے میں عُلَماء وُثُوق کے ساتھ جانتے ہیں کہ وہ اُن لِکھاریوں کی نہیں ہیں جِن سے وہ مَنسُوب کی جاتی ہیں، لیکِن اُس باوُجُود وہ عوام میں ہَنُوز اُنہی لِکھاریوں سے مَنسُوب کی جاتی ہیں۔ خود ہمیں دیکھ لیجیے کہ ہمارے عوام نے کیسی بےمایہ و ضعِیف چِیزیں جامی و رُومی و امِیر خُسرَو و حافِظ و سَعدی و نِظامی جیسے اُستاد شُعراء سے مَنسُوب کی ہوئی ہیں۔

ایک شَخص نے تو اِس بَیت کے عُرفی کے ہونے پر یہ دلِیل دی کہ اُن کے والِد نے ١٩۵٠ء میں کِسی رَسّام سے یہ بَیت عُرفی کے نام کے ساتھ اپنی دُکان پر لِکھوائی تھی۔ واہ!

دو تِین لوگوں کو عِصمَت کی بَیت کے مَتن میں وَزن کا بِگاڑ بھی نظَر آ گیا لیکِن اُنہوں نے میرے پُوچھنے کے باوُجُود یہ نہیں بَتایا کہ وہ اِختِلالِ وَزن اُنہیں بَیت کی کِس جگہ پر دِکھائی دِیا ہے۔

بَعض لوگوں کو لَگا کہ ہو سَکتا ہے کہ یہ توارُد کی ایک مِثال ہو اور عِصمَت اور عُرفی دونوں ہی نے مِلتے جُلتے الفاظ میں ایک جیسے مَضمُون کو مَنظُوم کر لِیا ہو۔

لیکِن اِس رائے کی بھی کوئی حَیثِیَت نہیں ہے کیونکہ اربَش علی صاحِب کی تحقِیق سے ہمیں یہ مَعلُوم نہیں ہُوا کہ یہ بَیت، یا اِس کی کوئی شَکل، عِصمَت اور عُرفی دَونوں کے دواوِین میں مَوجُود ہے، بلکہ ہمیں یہ مَعلُوم ہُوا ہے کہ یہ بَیت دِیوان عُرفی کے کِسی بھی مَخطُوطے میں مَوجُود نہیں ہے، در حالے کہ دِیوانِ عِصمَت کے ہر ایک مَخطُوطے میں وہ بَیت مَوجُود ہے۔

علّامہ اربَش علی دامَت بَرَکاتُهُ نے اپنی تحقِیق میں دِیوانِ عِصمَت کے فقَط تِین یا چار قلمی نُسخوں کے عَکس پیش نہیں کِیے ہیں، بلکہ بارہ قلمی نُسخوں کے عَکس پیش کیے ہیں، جِن میں سے تِین یا ایک قلمی نُسخہ خود عِصمَت کے حِینِ حَیات میں کِتابَت پایا تھا، اور ساتھ میں یہ بھی بَتایا ہے کہ وہ سب قلمی نُسخے دُنیا کے کِس کِس کِتاب‌خانے میں نِگَہداری ہو رہے ہیں، اور اُن قلمی نُسخوں کے کِن کِن بَرگوں پر وہ غزَل اور وہ بَیت دیکھی جا سَکتی ہے۔

اگر یہ بَیت عُرفی ہی نے لِکھی ہوتی تو گُذَشتہ ادوار میں لِکھے گئے دِیوانِ عُرفی کے آخِر کِسی نُسخے میں تو اِس بَیت کو مَوجُود ہونا چاہیے تھا، جو کہ نہیں ہے۔ جبکہ یہ بَیت ہمیں دِیوانِ عِصمَت کے اُس قدیم‌ترین نُسخے میں بھی مِلتی ہے جو اُن کی زِندَگی ہی میں مَکتُوب ہُوا تھا۔ اِس سے بڑھ کر رَوشَن دلِیل کیا ہو سَکتی ہے؟

علاہ برآں، اربَش علی صاحِب نے عُرفی کے توَلُّد سے ساٹھ سال قَبل مُتَوَلِّد ہونے والے تذکِرہ‌نِگار فَخری هِرَوی کی تألِیف تُحفةُ الحبِیب، جو عُرفی کے توَلُّد سے ٣۴ سال قَبل لِکھی گئی تھی، کے نُسخوں کے بھی عَکس پیش کیے ہیں جِس میں وہ بَیت عِصمَت کے نام کے ساتھ ثَبت ہوئی ہے۔

ایک شَخص نے کِسی قَدر عِلمی اِستِفسار کِیا کہ بَتایا جائے کہ عُرفی اور عِصمَت میں سے کِس کو زمانی تقَدُّم حاصِل تھا تو مَیں نے جواب میں اُن شَخص کو بَتایا کہ عِصمَت کے سالِ وفات کے بارے میں دو اقوال مِلتے ہیں: ایک قَول کے مُطابِق وہ ٨٢٩ ہِجری میں مُتَوَفّیٰ ہوئے تھے، جبکہ ایک قَول اُن کا سالِ وفات ٨۴٠ ہِجری بَتاتا ہے۔ در حالے کہ عُرفی کا توَلُّد ہی ٩٦٣ ہِجری میں ہُوا تھا۔

سو اگر یہ بَیت واقِعاً عُرفی کی ہے تو پس یہ کَیسے مُمکِن ہے کہ ہمیں یہ بَیت عُرفی کے توَلُّد سے قَبل لِکھے گئے دِیوان عِصمَت اور تُحفةُ الحبِیب کے نُسخوں میں عِصمَت کے نام کے ساتھ نظَر آ جاتی ہے؟

نیز، اگر کِسی شَخص کو لگ رہا ہو کہ یہ بَیت کئی صدیوں سے عُرفی کے ساتھ مَنسُوب ہے تو بَتا دُوں کہ بھی یہ صحِیح نہیں ہے، کیونکہ اربَش علی صاحِب کو اپنی تحقِیق کے اَثناء میں اِس بَیت کی عُرفی کے ساتھ غلَط نِسبَت سب سے پہلے ایک لَکھنَوی لِکھاری کی ایک فارسی داستانی کِتاب سُهَیلِ یَمَن میں نظَر آئی ہے جو مَحض ڈیڑھ سَو سال قَبل ۱٨٧۵ء میں شائِع ہوئی تھی۔ اِس کی تفصِیل بھی اربَش علی کی اُس تحقِیق میں دیکھی جا سکتی ہے۔

یعنی، نہ صِرف یہ کہ یہ بَیت ہمیں عُرفی کے دِیوانِ اشعار کے نُسخوں میں نہیں مِلتی، بلکہ ہمیں اِس کی عُرفی کے ساتھ غلَط نِسبَت بھی قدیم کُتُب میں نظَر نہیں آتی، اور یہ صِرف ایک دو صدی کی بات ہے کہ اِس نے عُرفی سے نِسبَت کے ساتھ شُہرَت پائی ہے۔

یہاں یہ سوال پَیدا ہوتا ہے کہ آخِر یہ بَیت کیسے اِس غلَط نِسبَت کے ساتھ اِتنی زیادہ مَشہُور ہو گئی اور زباں‌زدِ ہر خاص و عام ہو گئی تو میرے پاس اِس کا ایک جواب یہ ہے کہ مَعرُوف پاکِستانی لِکھاری پَطرَس بُخاری نے اپنی بہت زیادہ مَشہُور کِتاب مَضامِینِ پَطرَس کے ایک مَضمُون مُعَنوَن بہ کُتّے میں "آوازِ سَگان” والی عِصمَت کی اِس بَیت کو عُرفی کے نام کے ساتھ اور بَیت کے تحرِیف‌یافتہ مَتن کے ساتھ دَرج کر دِیا تھا۔ وہ کِتاب جَہانِ اُردو میں اب تک لاکھوں لوگ پڑھ چُکے ہیں، اور لاکھوں لوگوں کی نظروں سے وہ غلَط مَتن اور وہ غلَط نِسبَت گُذر چُکی ہے، اور آئِندہ بھی لاکھوں لوگ اُس کِتاب کو پڑھیں گے اور اُن کی نظروں سے عِصمَت کی وہ بَیت عُرفی سے غلَط نِسبَت کے ساتھ گُذرے گی۔ پس کیا تعَجُّب اگر جَہانِ اُردو میں یہ غلطی شِدَّت کے ساتھ راسِخ ہو گئی ہے کہ وہ بَیت عُرفی کی ہے اور اُس کا مَتن وہی ہے جو مَضامِینِ پَطرَس میں پڑھنے کو مِلتا ہے؟

مَیں اِس مُراسلے کے تبصِروں میں بھی وہ رَبط سب سے اُوپَر چُپکا رہا ہُوں جِس کو دَبا کر آپ اربَش علی صاحِب کی تحقِیق تک پُہنچ سَکتے ہیں۔ مَیں سب مُعتَرضِوں اور مُنکِروں سے درخواست نہیں، اِلتِماس کر رہا ہُوں کہ وہ علّامہ اربَش علی کی اُس گِراں‌قَدر تحقِیق کو ایک بار ضَرُور پڑھیں جِس کی سِتائِش کرتے مَیں تھک نہیں رہا ہُوں۔

اگر اربَش علی صاحِب کی تحقِیقِ انِیق کو پڑھ کر اور میرے اِس مُراسلے میں دِیے گئے دلائل کو دیکھنے کے بَعد بھی آپ پر حقِیقت اظہَر مِن الشَّمس نہیں ہو جاتی اور آپ اِس بَیت کے عِصمَت کے ہونے کا اِنکار جاری رکھتے ہیں اور اِس پر اِبرام کرتے ہیں کہ یہ بَیت عُرفی ہی کی ہے تو مَیں کلاسیکی ادَبیاتِ عرَبی کی اہم‌ترین کِتاب قُرآن سے دوبارہ ایک اِقتِباس لے کر آپ سے یہی کہوں گا کہ: "قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً”، یعنی آپ کے دِل پتَّھروں کی طرح سَخت ہو گئے ہیں، بلکہ اُن سے بھی زیادہ سَخت!

پِچھلے مُراسلے میں مَیں نے عِصمَت بُخارائی اور عُرفی شِیرازی دونوں پر سلام بھیج کر اُس مُراسلے کی تحرِیر کو اِختِتام تک پُہنچایا تھا۔ اِس مُراسلے کے آخِر میں مَیں اپنے دوستِ ارجُمَند اربَش علی پر سلام بھیجنا چاہُوں گا جِنہوں نے فارسی و تُرکی مَخطُوطوں میں ڈُوب کر گہری تحقِیق کر کے قاطِعانہ طَور پر یہ ثابِت کر دِیا کہ "آوازِ سَگان” والی بَیت عُرفی کی سِرے سے نہیں ہے، بلکہ عِصمَت کی ہے۔ ہمارے عِلمی و تحقِیقی ذَوق سے تہی مُعاشرے کو اُن جیسے ہی عالِموں اور مُحَقِّقوں کی اِحتِیاج ہے!

سلام بر «اربَش علی»!

(حسّان خان اباسِینی)
ارسال کنندہ: محبت خان